خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 376

خلافة على منهاج النبوة جلد اول خلافت وحدت قومی کی جان ہے یہ خلافت پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے درسِ قرآن میں جس کا دور ۱۹۱۴ء میں شروع ہوا یکم مارچ ۱۹۲۱ء کو جب آیت استخلاف آئی تو حضور نے نہایت تفصیل کے ساتھ مسئلہ خلا روشنی ڈالی اور اُس فتنہ کے واقعات بیان کر کے جو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی وفات پر پیدا ہوا یہ ثابت کیا کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے کسی انسانی منصوبہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔اس تقریر کا ایک حصہ جس میں مسئلہ خلافت کی اہمیت بیان کی گئی ہے درج ذیل ہے۔وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْرِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ ص وليبَة لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَنْ كَفَرَ بعد ذلك فأوليكَ هُمُ الفسقون ، یہ آیت اس زمانہ میں بہت ہی زیر بحث ہے۔اس میں خلافت کا مضمون بیان کیا گیا ہے۔میں خلافت کے مسئلہ کے متعلق کم بولتا ہوں کیونکہ طبعاً میری طبیعت میں یہ بات داخل ہے کہ جس مسئلہ کا اثر میری ذات پر پڑتا ہوا سے میں بہت کم بیان کیا کرتا ہوں۔ہاں جب کوئی اعتراض کرے تو جواب دینے کے لئے بولنا پڑتا ہے۔حضرت خلیفہ اول خلافت کے مسئلہ کے متعلق بہت زور دیا کرتے تھے کیونکہ اُنہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ علم دیا گیا تھا کہ اس کے متعلق فتنہ ہوگا۔اس وجہ سے لیکچروں ، درسوں اور دعاؤں میں بہت زور دیا کرتے تھے۔میرے نز دیک یہ مسئلہ اسلام کے ایک حصہ کی جان ہے۔مختلف حصوں میں مذا ہب کا عملی کام منقسم ہوتا ہے۔یہ مسئلہ جس حصہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے وہ وحدت قومی ہے۔کوئی جماعت ، کوئی قوم اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک ایک رنگ کی اس میں وحدت نہ