خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 378

خلافة على منهاج النبوة جلد اول ہے۔دوسرا سلوک ان سے یہ کرے گا کہ دلیب لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا اور خوف کے بعد امن سے ان کی حالت بدل دے گا۔اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ فرماتا ہے کہ يَعْبُدُونَني لا يشركون بي شَيْئًا - وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔آگے فرماتا ہے یہ تمہارے لئے اتنا بڑا انعام ہے کہ ومَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِك فا وليكَ هُمُ الفسقون جو اس کی قدر نہ کرے گا وہ ہمارے دفتر سے کاٹ دیا جائے گا۔یہ اس قد رسخت وعید ہے کہ پچھلے کسی وعدہ کی ناقدری کے متعلق ایسی وعید نہیں رکھی گئی۔اس زمانہ میں بدقسمتی سے بعض لوگوں نے خلافت سے اختلاف کیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ خلافت کا سلسلہ حکومت سے تعلق رکھتا ہے۔حالانکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے جنتا ر دیا ہے مذہب پر ہی دیا ہے۔وعد الله الذینَ آمَنُوا مِنْكُمْ ایک بات - د عملوا الصلحت دوسری بات - وليمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ تیری بات - يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا، چوتھی بات - وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُوليك هُمُ الفيسقون پانچویں بات۔یہ پانچوں باتیں تو صاف طور پر دین سے تعلق رکھتی ہیں۔اور تمکین دین کے ساتھ امن کا آنا ظاہر کرتا ہے کہ اس سے بھی دینی امن ہی مراد ہے۔اس طرح اس آیت میں تمام کا تمام دین کا ذکر ہے۔اور اس کے آگے بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے واقيمُوا الصلوة وأتُوا الزَّكوة وَاطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ نے یہ بھی دین کے احکام ہیں۔پس یہاں دین ہی دین کا ذکر ہے ورنہ اگر یہاں یہ سمجھا جائے کہ سلطنت کا ذکر ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ روحانی ترقیات کے ذرائع بتانے کے سلسلہ میں سلطنت کا ذکر کیا تعلق رکھتا ہے۔سلطنت تو کافر اور بد کا رلوگ بھی قائم کر لیتے ہیں۔اصل اور سچی بات یہی ہے کہ خلافت جو روحانی ترقیات کا ایک عظیم الشان ذریعہ ہے اسی کا یہاں ذکر ہے سلطنت کا نہیں ہے۔اس خلافت سے مراد خواہ خلافت ما موربیت لے لو یا خلافت نیابت مامورین لے لو بہر حال روحانی خلافت کا ہی یہاں ذکر ہے۔یہ دونوں قسم کی خلافت روحانیت کی ترقی کا ذریعہ ہے، خلافت ماموریت تو اس طرح کہ اس کے