خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 374

خلافة على منهاج النبوة ۳۷۴ جلد اول لئے ان سے اختلاف کرنا ہرگز جائز نہیں ہوتا۔ہاں تفصیلات میں خلفاء سے اختلاف ہوسکتا ہے۔چنانچہ اب بھی کسی علمی مسئلہ میں اختلاف ہو جاتا ہے اور پہلے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ خلفاء کو دوسروں کی بات ماننی پڑی ہے اور بعض دفعہ خلفاء کی بات دوسروں کو ماننی پڑی ہے چنانچہ حضرت عمر اور صحابہ میں یہ مسئلہ اختلافی رہا کہ جنبی خروج ماء سے ہوتا ہے یا محض صحبت سے۔غرض خلفا ء سے اس قسم کی باتوں میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن انبیاء سے نہیں کیا جاسکتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی التحیات میں اُنگلی اُٹھانے کے متعلق اختلاف کرے گا تو بھی کا فر ہو جائے گا لیکن مجد دین اور خلفاء ایسے نہیں ہوتے کہ مسائل میں بھی اگر ان سے اختلاف ہو جائے تو انسان کا فر ہو جائے مگر انبیاء کی چھوٹی سے چھوٹی بات سے اختلاف کرنے والا بھی کا فر ہو جاتا ہے ان کی کوئی بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے یہی کہنا فرض ہے کہ جو نبی کہتا ہے وہی سچ ہے“۔(انوار العلوم جلد ۵ صفحه ۵۲۳،۵۲۲) پھر ملائکہ سے فیض حاصل کرنے کے ذرائع بیان کرتے ہوئے آٹھواں طریق آپ یہ بیان فرماتے ہیں :۔آٹھواں طریق ملائکہ سے فیض حاصل کرنے کا یہ ہے کہ خلیفہ کے ساتھ تعلق ہو۔یہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔جیسا کہ آتا ہے وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ايَةً مُلكِة آن يأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةُ مِّمَّا تَرَكَ أل موسى و ال هرُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَئِكَةُ کہ ایک زمانہ میں ایک نبی سے لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے اپنا ایسا جانشین مقرر کر دیجئے جس سے ہم دنیا وی معاملات میں مدد حاصل کریں۔لیکن جب ان کے لئے ایک شخص کو جانشین مقرر کیا گیا تو انہوں نے کہہ دیا اس میں وہ کون سی بات ہے جو ہمارے اندر نہیں ہے۔جیسا کہ اب پیغامی کہتے ہیں۔نبی نے کہا آؤ بتا ئیں اس میں کون سی بات ہے جو تم میں نہیں اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ اس سے تعلق رکھیں گے ان کو فرشتے تسکین دیں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ خلافت کے ساتھ وابستگی بھی ملائکہ سے تعلق پیدا کراتی ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ ان کے دل فرشتے اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔تابوت کے معنی دل اور سینہ کے ہیں۔فرمایا خلافت سے تعلق رکھنے والوں کی یہ علامت ہوگی کہ اُن کو تسلی حاصل