خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 373

خلافة على منهاج النبوة ۳۷۳ جلد اول خلیفہ کے ساتھ تعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۲۸، ۲۹ دسمبر ۱۹۲۰ء کے جلسہ سالانہ پر ایک معرکۃ الآرا تقریر فرمائی جو ملائکہ اللہ کے موضوع پر تھی۔ملائکہ پر ایمان لانا ، دیگر مذاہب میں ملائکہ کا تصور، ملائکہ کے کام بڑی تفصیل سے بیان فرمائے اور پھر ملائکہ سے تعلق کس طرح جوڑا جاسکتا ہے اس کے ۸ ذرائع بیان فرمائے۔خلیفہ کے ساتھ تعلق کے ضمن میں آپ فرماتے ہیں :۔یہ ٹھیک ہے کہ خلفاء اور مجددین بھی اچھی باتیں بتاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ ، نبیوں ، ملائکہ اور کتب کی باتوں اور ان کی باتوں میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ایمانیات میں وہ داخل ہیں جن کی کسی چھوٹی سے چھوٹی بات سے اختلاف کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی یہی کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے وقت پاؤں دھونے کا جو حکم دیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ کا فر ہو جائے گا مگر خلیفہ سے تفصیلات میں اختلاف ہو سکتا ہے۔مثلاً خلیفہ ایک آیت کے جو معنی سمجھتا ہے وہ دوسرے شخص کی سمجھ میں نہ آئیں اور وہ اُن کو نہ مانے تو اُس کیلئے جائز ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو کہے کہ فلاں آیت کے آپ نے جو معنی کئے ہیں میں ان کو نہیں مانتا تو کافر ہو جائے گا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں سے ایک شوشہ بھی رڈ کرنا کسی کیلئے جائز نہیں ہے۔گو خلفاء کے احکام ماننا ضروری ہوتے ہیں لیکن ان کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ممکن ہے کہ خلیفہ کسی امر کے متعلق جو رائے دے اس سے کسی کو اتفاق نہ ہو۔چنانچہ حضرت ابو بکر نے ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا یہ کہا تھا کہ ان کو غلام بنا لینا جائز ہے کیونکہ وہ مرتد اور کافر ہیں۔مگر اس کے متعلق حضرت عمرا خیر تک کہتے رہے کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔لیکن اگر رسول کریم ہے فرماتے تو اس سے اختلاف کرنا ان کیلئے جائز نہ تھا۔انبیاء سے چونکہ اصول کا تعلق ہوتا ہے اس