خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 361

خلافة على منهاج النبوة روکتا ہے وہ کیا حق رکھتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو بے وقوف اور احمق کہے۔جلد اول غیر مبائعین کو جماعت احمدیہ سے کیا نسبت ؟ میں یہ مانتا ہوں کہ ہماری جماعت کے سارے لوگ ایم اے اور بی اے نہیں۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر اور دوسرے صحابی بھی ایم اے اور بی اے نہ تھے۔گواگر اسی بات میں وہ ہماری جماعت سے اپنے ساتھیوں کا مقابلہ کرے تو اسے معلوم ہو جائے کہ خدا کے فضل سے ہم میں ان سے بہت زیادہ ایم اے اور بی اے ہیں۔پھر اگر سیانے اور عقلمند کے معنی ان کے نزدیک مال دار کے ہیں تو ان کے ساتھیوں سے بہت زیادہ مالدار ہم اپنی جماعت میں دکھا سکتے ہیں۔بڑے سے بڑا چندہ ایک دفعہ ان میں سے ایک آدمی نے ہزار روپیہ دیا تھا اور اسی پر بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا تھا۔مگر ہمیں ایک ہی آدمی نے سترہ ہزار روپیہ چندہ یک مشت دیا۔خواجہ صاحب اور عربی دانی پھر عقل اور علم کا معیار علیم عربی جاننا ہے۔مگر میں جانتا ہوں خواجہ صاحب یہ معیا رکبھی قائم نہیں کریں گے کیونکہ علم عربی سے جہالت خواجہ صاحب سے زیادہ کسی اور میں کم ہی پائی جائے گی۔انہوں نے ایک پشاوری مولوی سے مدد لے کر اور حضرت صاحب کی ایک کتاب چرا کر ایک کتاب لکھ دی ہے اور سمجھ لیا ہے کہ میں بڑا عربی دان ہوں۔مگر اس کا فیصلہ نہایت آسانی کے ساتھ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مولوی صاحب بنائے جائیں حج اور قرآن کریم کا کوئی ایک رکوع خواجہ صاحب کے سامنے پیش کر دیا جاوے اور وہ اس کا لفظی ترجمہ کر دیں اور فیصلہ مولوی محمد علی صاحب قسم کھا کر دیں اور لکھ دیں کہ خواجہ صاحب کا کیا ہوا تر جمہ صحیح ہے۔یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے صرف لفظی ترجمہ ہے۔مگر میں جانتا ہوں خواجہ صاحب اس سوال کو کبھی اُٹھنے نہیں دیں گے کیونکہ عربی دانی ان کے نزدیک جہالت ہے اور وہ علماء کو قل اعوذئیے “ کہا کرتے ہیں۔غیر مبائعین ہر طرح مقابلہ کر لیں خیر خواجہ صاحب یہ بات تو نہیں ماننے کے مگر اپنے ساتھیوں میں سے مولوی ہی پیش