خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 360
خلافة على منهاج النبوة جلد اول اجازت لے کر کہا ہاں ضروری ہے۔اس سوال و جواب سے دونوں باتیں حل ہو گئیں کہ مسلمانوں میں خلیفہ ہوا اور ہو بھی واجب الاطاعت۔کہتے ہیں کوئی شخص ساری رات زلیخا کا قصہ پڑھتا رہا جب صبح ہوئی تو اس نے پوچھا زلیخا عورت تھی یا مرد؟ ہم کہتے ہیں یہی بات ان لوگوں نے کی ہے۔اس وقت تک ہم سے اتنا جھگڑا کرتے رہے اور سمجھا ہی نہیں کہ ہم کیا کہتے رہے ہیں۔ہم بھی تو یہی کہتے تھے کہ خلافت اسلام کا اک اہم اور ضروری جزو ہے اور خلیفہ کی اطاعت لازم ہے۔مگر ہمارے کہنے سے تو ان لوگوں نے نہیں سمجھا اور اب انہیں مجبور کر کے خدا انہی کے مونہوں سے یہ بات کہلوا رہا ہے۔ہماری مخالفت میں خواجہ صاحب کی سرگرمی دوسری ایک اور بات ہے اور وہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے خواجہ کمال الدین صاحب نے آکر غیر مبائعین کے مشن میں خاص حصہ لینا شروع کر دیا ہے اور مولوی محمد علی صاحب کے بازو بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنا وہی پرانا وعظ شروع کیا ہوا ہے جو اظہار حق خفیہ ٹریکٹ میں کسی نے حضرت خلیفہ اول کو بہت سی گالیاں دے کر درج کیا تھا اور وہ یہ کہ خلیفہ کی بیعت کرنا انسان پرستی ہے۔اُس وقت تو خواجہ صاحب کے ساتھیوں نے اعلان کر دیا تھا کہ یہ ہمارا مذہب نہیں ہے۔مگر اب خواجہ صاحب وہی بات کہہ رہے تھے۔پھر وہ کہتے ہیں کہ جتنے نبی دنیا میں آئے وہ انسان پرستی کو مٹانے کے لئے آئے۔پھر کہتے ہیں یہ جو دنیا میں انسان پرستی پائی جاتی ہے اس میں سب سے زیادہ حصہ انبیاء اور اولیاء کی اولاد کا ہوتا ہے اس لئے میں جماعت احمدیہ کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس میں داخل ہونے والے لوگ کیوں احمق ہو گئے ہیں کہ انہوں نے انسان پرستی شروع کر دی ہے۔ایک خلیفہ کی بیعت کرنا جماعت احمدیہ کی حماقت ہے یا خواجہ صاحب کی ؟ یہ لمبا سوال ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ ہماری جماعت میں سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جو باوجود اس کے کہ ایک لفظ بھی نہیں پڑھے ہوئے تاہم خواجہ صاحب کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔پھر جو شخص خدا تعالیٰ کے کلام کا اتنا بھی حق نہیں سمجھتا کہ اسے دنیا میں شائع کیا جاوے اور آج بھی اس کی اشاعت کو