خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 342
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۲۔جلد اول ثواب ملے ستر کا نہ ملے۔تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو چیز ا چھی نظر آتی ہے وہ در حقیقت اپنے اندر بُرائی کا پیج رکھتی ہے۔چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے جو شرائط پیش کی گئی ہیں وہ ایسی ہی ہیں کہ بظا ہر اچھی معلوم ہوتی ہیں مگر باطن میں زہر ہیں۔ظاہر میں تو یہ شرائط ایسی ہی اعلیٰ معلوم ہوتی ہیں جیسی عیسائیوں کی یہ تعلیم ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دویا مگر جب ان کی حقیقت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سخت نقصان رساں ہیں۔ایک شرط یہ ہے کہ ایک دوسرے کے متعلق سخت کلامی نہ ہو۔اس کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ آپس کی سخت کلامی کب سے شروع ہوئی۔کہتے ہیں الفضل میں فلاں سخت مضمون چھپا۔ہم پوچھتے ہیں کیوں چھپا ؟ اور اس کی کیا وجہ تھی ؟ یہی معلوم ہو گا کہ پیغام نے فلاں مضمون لکھا تھا اس کا جواب دیا گیا۔اسی طرح اگر اس کو چلاتے جاؤ تو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے پہلے کس نے سخت لکھا اور وہ پیغام ہی ہو گا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے اخباروں نے بہت کم لکھا ہے۔وجہ یہ ہے کہ میں نے انہیں رو کے رکھا ہے اور جس طرح اگر گھوڑے کو زور سے روکیں تو اس کے منہ سے خون نکل آتا ہے اسی طرح ہمارے بعض اخباروں کے ایڈیٹروں کا حال ہوا کہ وہ ان لوگوں کی سخت کلامی کو اور اپنی مجبوری کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے رہے ہیں اور جوش میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بعض لوگوں کی بدکلامی سن کر ان سے لڑ پڑا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو معلوم ہوا تو آپ نے اُسے نصیحت کی کہ ایسے موقع پر صبر سے کام لینا چاہئے۔وہ شخص سخت جوش سے بھرا ہوا تھا بے اختیار کہ اُٹھا کہ ہم سے ایسا نہیں ہوسکتا۔آپ کے پیر ( محمد ) کو جب کوئی گالی دے تو آپ اس کے ساتھ مباہلہ کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن ہمیں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے پیر ( حضرت مسیح موعود ) کے متعلق گالیاں سن کر صبر کریں۔اُس کی یہ بات سن کر اور اُس کے غضب کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس وقت مسکرا کر خاموش ہو رہے۔تو جوش ایک طبعی تقاضا ہے جو ایک حد تک جائز ہو تا ہے۔لیکن میں نے اخباروں کو رو کے رکھا اس وجہ سے غیر مبائعین کی درشت کلامی بڑھتی گئی اور اب انہیں ڈر پیدا ہوا ہے کہ اگر ادھر سے بھی جواب دیا گیا تو مشکل پڑ جائے گی۔