خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 343

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۳ جلد اول اس وجہ سے انہیں سختی کو ترک کرنے کا خیال پیدا ہوا ہے۔مگر یہ ایسا ہی خیال ہے جیسا کہ کسی کو تھپڑ مار کر کہا جائے کہ اب صلح کر لو۔اس طرح صلح نہیں ہو سکتی۔صلح اُسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ یا تو جو لینا ہو لے لیا جائے اور جو دینا ہو دے دیا جائے۔کیونکہ یہ مخالف کی مخالف سے صلح ہوتی ہے بھائی بھائی کی صلح نہیں۔اور یا پھر وہ زہر جو پھیلا یا گیا ہو اُس کا ازالہ کر دیا جاوے۔لیکن خیر ہم اس شرط کو مان لیتے ہیں کہ ایک دوسرے کے متعلق سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں۔مگر اس کے ساتھ دوسری بات وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لی جایا کرے۔لیکن اس شرط کے مان لینے کے یہ معنی ہیں کہ گویا ہم اپنے ہاتھ آپ کاٹ دیں۔ہمارا اختلاف کسی جدی وراثت کے متعلق نہیں ہے کہ فلاں نے زیادہ مال لے لیا اور فلاں نے کم بلکہ ہمارا اختلاف دین کے متعلق ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا اللِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وليبة لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَنْ كَفَرَ بعد ذلك فأوليكَ هُمُ الفسقون ہے ہم تو قرآن کریم کے اس ارشاد کے ماتحت اختلاف کرتے ہیں کہ جو ایسے خلیفہ کو نہیں مانتا وہ فاسق ہے۔اب ایک طرف تو ہم کہیں کہ جو خلیفہ کو نہیں مانتا وہ فاسق ہے اور دوسری طرف اعلان کریں اور حکم دیں کہ اُن لوگوں کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو یہ نہیں ہو سکتا۔غیر مبائعین کی اس بات کو تسلیم کر لینے کے تو یہ معنی ہوئے کہ ہماری خلافت اس آیت کے ماتحت نہیں۔کیونکہ اگر اس کے ماتحت ہو تو پھر اس کے منکروں کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم دینے کے کیا معنی۔ایسی صلح ہم کبھی نہیں کر سکتے۔ہم نے مذہب کے معاملہ میں ساری دنیا کی پرواہ نہیں کی تو ان چند لوگوں کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔انہوں نے آج تک ہمارا کیا بگاڑا ہے کہ آئندہ بگاڑ لیں گے۔ہم نے مجبوری کے وقت مثلاً ان کی مسجد میں کوئی شخص بیٹھا ہو اور نماز کھڑی ہو جاوے تو ان کے پیچھے نما ز پڑھنے کی اجازت دی ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام نہیں کہتے۔لیکن ان