خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 334
خلافة على منهاج النبوة ۳۳۴ جلد اول باغیوں کا بیت المال کو لوٹنا اس کے بعد ان لوگوں نے اپنے ساتھیوں میں عام منادی کرادی که بیت المال کی طرف چلو اور اس میں جو کچھ ہولوٹ لو۔چونکہ بیت المال میں سوائے روپیہ کی دو تھیلیوں کے اور کچھ نہ تھا محافظوں نے یہ دیکھ کر کہ خلیفہ وقت شہید ہو چکا ہے اور ان لوگوں کا مقابلہ کرنا فضول ہے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ یہ جو کچھ کرتے ہیں ان کو کرنے دو اور بیت المال کی کنجیاں پھینک کر چلے گئے۔چنانچہ انہوں نے بیت المال کو جا کر کھولا اور اس میں جو کچھ تھا لوٹ لیا اور اس طرح ہمیشہ کے لئے اس امر کی صداقت پر مہر لگادی کہ یہ لوگ ڈاکو اور لٹیرے تھے اور ان کو اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔اور کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہ لوگ جو حضرت عثمان پر یہ اعتراض دھرتے تھے کہ آپ غیر مستحقین کو روپیہ دے دیتے ہیں حضرت عثمان کی شہادت کے بعد سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ پہلے آپ کا گھر لوٹتے ہیں اور پھر بیت المال۔مگر خدا تعالیٰ نے ان کی آرزوؤں کو اس معاملہ میں بھی پورا نہ ہونے دیا کیونکہ بیت المال میں اُس وقت سوائے چند روپوں کے جو ان کی حرص کو پورا نہیں کر سکتے تھے اور کچھ نہ تھا۔حضرت عثمان کی شہادت پر صحابہ کا جوش حضرت عثمان کی شہادت کی خبر جب صحابہ کو پہنچی تو ان کو سخت صدمہ ہوا۔حضرت زبیر نے جب یہ خبر سنی تو فرمایا کہ انا لله وانا اليورْجِعُونَ - اے خدا ! عثمان پر رحم کر اور اس کا بدلہ لے۔اور جب ان سے کہا گیا کہ اب وہ لوگ شرمندہ ہیں اور اپنے کئے پر پشیمان ہو رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ منصوبہ بازی تھی اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ ا خدا تعالیٰ نے ان کی آرزوؤں کے پورا ہونے میں روکیں ڈال دی تھیں یعنی جو کچھ یہ لوگ چاہتے تھے چونکہ اب پورا ہوتا نظر نہیں آتا گل عالم اسلامی کو اپنے خلاف جوش میں دیکھ رہے ہیں اس لئے اظہار ندامت کرتے ہیں۔جب حضرت طلحہ کو خبر ملی تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ خدا تعالیٰ عثمان پر رحم فرما دے اور اس کا اور اسلام کا بدلہ ان لوگوں سے لے۔جب ان سے کہا گیا کہ اب تو وہ لوگ نادم ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان پر ہلاکت ہو اور یہ آیت کریمہ پڑھی