خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 333
خلافة على منهاج النبوة ۳۳۳ جلد اوّل اب مدد فضول تھی جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔حضرت عثمان کے ایک آزاد کردہ غلام سے سودان کے ہاتھ میں وہ خون آلودہ تلوار دیکھ کر جس نے حضرت عثمان کو شہید کیا تھا نہ رہا گیا اور اس نے آگے بڑھ کر اُس شخص کا تلوار سے سرکاٹ دیا۔اس پر اُس کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے اُس کو قتل کر دیا۔اب اسلامی حکومت کا تخت خلیفہ سے خالی ہو گیا۔اہل مدینہ نے مزید کوشش فضول سمجھی اور ہر ایک اپنے اپنے گھر جا کر بیٹھ گیا۔ان لوگوں نے حضرت عثمان کو مار کر گھر پر دست تعدی دراز کرنا شروع کیا۔حضرت عثمان کی بیوی نے چاہا کہ اس جگہ سے ہٹ جاویں تو اس کے لوٹتے وقت ان میں سے ایک کم بخت نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو ! اس کے سرین کیسے موٹے ہیں۔بے شک ایک حیا دار آدمی کے لئے خواہ وہ کسی مذہب کا پیرو کیوں نہ ہو اس بات کو باور کرنا بھی مشکل ہے کہ ایسے وقت میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت سابق (قدیم) صحابی آپ کے داماد ، تمام اسلامی ممالک کے بادشاہ اور پھر خلیفہ وقت کو یہ لوگ ابھی ابھی مار کر فارغ ہوئے تھے ایسے گندے خیالات کا ان لوگوں نے اظہار کیا ہو۔لیکن ان لوگوں کی بے حیائی ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ کسی قسم کی بداعمالی بھی ان سے بعید نہ تھی یہ لوگ کسی نیک مدعا کو لے کر کھڑے نہیں ہوئے تھے نہ ان کی جماعت نیک آدمیوں کی جماعت تھی۔ان میں سے بعض عبد اللہ بن سبا یہودی کے فریب خوردہ اور اس کی عجیب وغریب مخالف اسلام تعلیموں کے دلدادہ تھے۔کچھ حد سے بڑھی ہوئی سوشلزم بلکہ بالشوزم کے فریفتہ تھے۔کچھ سزا یافتہ مجرم تھے جو اپنا دیرینہ بغض نکالنا چاہتے تھے۔کچھ لٹیرے اور ڈاکو تھے جو اس فتنہ پر اپنی ترقیات کی راہ دیکھتے تھے۔پس ان کی بے حیائی قابل تعجب نہیں بلکہ یہ لوگ اگر ایسی حرکات نہ کرتے تب تعجب کا مقام تھا۔جب یہ لوگ لوٹ مار کر رہے تھے ایک اور آزاد کردہ غلام سے حضرت عثمان کے گھر والوں کی چیخ و پکار سن کر رہا نہ گیا اور اُس نے حملہ کر کے اُس شخص کو قتل کر دیا جس نے پہلے غلام کو مارا تھا۔اس پر ان لوگوں نے اُسے بھی قتل کر دیا اور عورتوں کے جسم پر سے بھی زیور اتار لئے اور ہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے گھر سے نکل گئے۔