خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 335

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۵ جلد اول فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَا إلَى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ ۵۲ ان کو وصیت کرنے کی بھی توفیق نہ ملے گی اور وہ اپنے اہل وعیال کی طرف واپس نہ لوٹ سکیں گے۔اسی طرح جب حضرت علیؓ کو اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی عثمان پر رحم فرمادے اور ان کے بعد ہمارے لئے کوئی بہتر جانشین مقرر فرما دے۔اور جب ان سے بھی کہا گیا کہ اب تو وہ لوگ شرمندہ ہیں تو آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی كَمَثَلِ الشَّيْطَنِ إذ قال للانسانِ اكْفُرُ فَلَمَّا عَفَر قَالَ إِنِّي بَرِي مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ الله رب العلمين ۵۳ یعنی ان کی مثال اس شیطان کی ہے جو لوگوں کو کہتا ہے کہ کفر کرو جب وہ کفر اختیار کر لیتے ہیں تو پھر کہتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں تو خدا سے ڈرتا ہوں۔جب ان لشکروں کو جو حضرت عثمان کی مدد کے لئے آرہے تھے معلوم ہوا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں تو وہ مدینہ سے چند میل کے فاصلہ پر سے ہی لوٹ گئے اور مدینہ کے اندر داخل ہونا انہوں نے پسند نہ کیا کیونکہ ان کے جانے سے حضرت عثمان کی تو کوئی مدد نہ ہو سکتی تھی اور خطرہ تھا کہ فساد زیادہ نہ بڑھ جاوے اور مسلمان عام طور پر بلا امام کے لڑنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔اب مدینہ انہیں لوگوں کے قبضہ میں رہ گیا اور ان ایام میں ان لوگوں نے جو حرکات کیں وہ نہایت حیرت انگیز ہیں۔حضرت عثمان کو شہید تو کر چکے تھے ان کی نعش کے دفن کرنے پر بھی ان کو اعتراض ہوا اور تین دن تک آپ کو دفن نہ کیا جاسکا۔آخر صحابہ کی ایک جماعت نے ہمت کر کے رات کے وقت آپ کو دفن کیا ان لوگوں کے راستہ میں بھی انہوں نے روکیں ڈالیں لیکن بعض لوگوں نے سختی سے ان کا مقابلہ کرنے کی دھمکی دی تو دب گئے۔حضرت عثمان کے دونوں غلاموں کی لاشوں کو باہر جنگل میں نکال کر ڈال دیا اور کتوں کو کھلا دیا۔۵۴ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ - واقعات متذکرہ کا خلاصہ اور نتائج یہ وہ صحیح واقعات ہیں جو حضرت عثمان کے آخری ایامِ خلافت میں ہوئے ان کو معلوم کرنے کے بعد کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمان یا صحابہ کا ان فسادات