خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 328
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۸ جلد اول کا مقابلہ جان تو ڑ کر کیا۔حضرت امام حسن جو نہایت صلح جو بلکہ صلح کے شہزادے تھے انہوں نے بھی اُس دن رجز پڑھ پڑھ کر دشمن پر حملہ کیا۔ان کا اور محمد بن طلحہ کا اُس دن کا رجز خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ ان سے ان کے دلی خیالات کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے۔لَا دِينُهُمْ دِينِي وَلَا أَنَا مِنْهُمْ حَتَّى أَسِيرَ إِلَى طَمَارِ شَمَامِ یعنی ان لوگوں کا دین میرا دین نہیں اور نہ ان لوگوں سے میرا کوئی تعلق ہے اور میں ان سے اُس وقت تک لڑوں گا کہ شام پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جاؤں۔شمام عرب کا ایک پہاڑ ہے جس کو بلندی پر پہنچنے اور مقصد کے حصول سے مشابہت دیتے ہیں۔اور حضرت امام حسنؓ کا یہ مطلب ہے کہ جب تک میں اپنے مدعا کو نہ پہنچ جاؤں اُس وقت تک میں برابر ان سے لڑتا رہوں گا اور ان سے صلح نہ کروں گا۔کیونکہ ہم میں کوئی معمولی اختلاف نہیں کہ بغیر ان پر فتح پانے کے ہم ان سے تعلق قائم کر لیں۔یہ تو وہ خیالات ہیں جو اس شہزادہ صلح کے دل میں موجزن تھے۔اب طلحہ کے لڑکے محمد کا رجز لیتے ہیں وہ کہتے ہیں : أَنَا ابْنُ مَنْ حَامَى عَلَيْهِ بِاحَدٍ ورَدَّ أَحْزَابَا عَلَى رَغْمِ مَعَةٍ یعنی میں اُس کا بیٹا ہوں جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اُحد کے دن کی تھی اور جس نے باوجود اس کے کہ عربوں نے سارا زور لگایا تھا اُن کو شکست دے دی تھی۔یعنی آج بھی اُحد کی طرح کا ایک واقعہ ہے اور جس طرح میرے والد نے اپنے ہاتھ کو تیروں سے چھلنی کر والیا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آنچ نہ آنے دی تھی میں بھی ایسا ہی کروں گا۔حضرت عبداللہ بن زبیر بھی اس لڑائی میں شریک ہوئے اور بُری طرح زخمی ہوئے مروان بھی سخت زخمی ہوا اور موت تک پہنچ کر لوٹا۔مغیرہ بن الاخنس مارے گئے۔جس شخص نے ان کو مارا تھا اُس نے دیکھ کر کہ آپ زخمی ہی نہیں ہوئے بلکہ مارے گئے ہیں زور سے کہا کہ انا لله وانا الیهِ رُجِعُون ۲۹ سردار لشکر نے اُسے ڈانٹا کہ اس خوشی کے موقع پر لِلَّهِ وَإِنَّا