خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 329

خلافة على منهاج النبوة ۳۲۹ جلد اول افسوس کا اظہار کرتے ہو! اُس نے کہا کہ آج رات میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ ایک مسی کہتا ہے مغیرہ کے قاتل کو دوزخ کی خبر دو۔پس یہ معلوم کر کے کہ میں ہی اس کا قاتل ہوں مجھے اس کا صدمہ ہونا لازمی تھا۔مذکورہ بالا لوگوں کے سوا اور لوگ بھی زخمی ہوئے اور مارے گئے اور حضرت عثمان کی حفاظت کرنے والی جماعت اور بھی کم ہو گئی۔لیکن اگر باغیوں نے باوجود آسمانی انذار کے اپنی ضد نہ چھوڑی اور خدا تعالیٰ کی محبوب جماعت کا مقابلہ جاری رکھا تو دوسری طرف مخلصین نے بھی اپنے ایمان کا اعلیٰ نمونہ دکھانے میں کمی نہ کی۔باوجود اس کے کہ اکثر محافظ مارے گئے یا زخمی ہو گئے پھر بھی ایک قلیل گروہ برابر دروازہ کی حفاظت کرتا رہا۔چونکہ باغیوں کو بظا ہر غلبہ حاصل ہو چکا تھا انہوں نے آخری حیلہ کے طور پر پھر ایک شخص کو حضرت عثمان کی طرف بھیجا کہ وہ خلافت سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ خود دستبردار ہو جاویں گے تو مسلمانوں کو انہیں سزا دینے کا کوئی حق اور موقع نہ رہے گا۔حضرت عثمان کے پاس جب پیغامبر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو جاہلیت میں بھی بدیوں سے پر ہیز کیا ہے اور اسلام میں بھی اس کے احکام کو نہیں تو ڑا۔میں کیوں اور کس جرم میں اس عہدہ کو چھوڑوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔میں تو اس قمیض کو کبھی نہیں اُتاروں گا جو خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے۔وہ شخص یہ جواب سن کر واپس آ گیا اور اپنے ساتھیوں سے اِن الفاظ میں آکر مخاطب ہوا۔خدا کی قسم ! ہم سخت مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔خدا کی قسم ! مسلمانوں کی گرفت سے عثمان کو قتل کرنے کے سوائے ہم بچ نہیں سکتے ( کیونکہ اس صورت میں حکومت تہ و بالا ہو جائے گی اور انتظام بگڑ جاوے گا اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو گا ) اور اس کا قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں۔اس شخص کے یہ فقرات نہ صرف ان لوگوں کی گھبراہٹ پر دلالت کرتے ہیں بلکہ اس امر پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اُس وقت بھی حضرت عثمان نے کوئی ایسی بات پیدا نہ ہونے دی تھی جسے یہ لوگ بطور بہانہ استعمال کر سکیں اور ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ حضرت عثمان کا قتل کسی صورت میں جائز نہیں۔