خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 327

خلافة على منهاج النبوة ۳۲۷ جلد اول سے پہلے شخص تھے جو حج کے بعد ثواب جہاد کے لئے مدینہ میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ ہی یہ خبر باغیوں کو ملی کہ اہل بصرہ کا لشکر جو مسلمانوں کی امداد کے لئے آ رہا ہے صرار مقام پر جو مدینہ سے صرف ایک دن کے راستہ پر ہے آپہنچا ہے۔ان خبروں سے متاثر ہو کر اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح ہو اپنے مدعا کو جلد پورا کیا جائے اور چونکہ وہ صحابہ اور ان کے ساتھی جنہوں نے باوجود حضرت عثمان کے منع کرنے کے حضرت عثمان کی حفاظت نہ چھوڑی تھی اور صاف کہہ دیا تھا کہ اگر ہم آپ کو باوجود ہاتھوں میں طاقت مقابلہ ہونے کے چھوڑ دیں تو خدا تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے ، بوجہ اپنی قلت تعدا داب مکان کے اندر کی طرف سے حفاظت کرتے تھے اور دروازہ تک پہنچنا باغیوں کے لئے مشکل نہ تھا۔انہوں نے دروازہ کے سامنے لکڑیوں کے انبار جمع کر کے آگ لگا دی تا کہ دروازہ جل جاوے اور اندر پہنچنے کا راستہ مل جاوے۔صحابہ نے اس بات کو دیکھا تو اندر بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔تلواریں پکڑ کر باہر نکلنا چاہا مگر حضرت عثمانؓ نے اس بات سے روکا اور فرمایا کہ گھر کو آگ لگانے کے بعد اور کون سی بات رہ گئی ہے اب جو ہونا تھا ہو چکا تم لوگ اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو اور اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔ان لوگوں کو صرف میری ذات سے عداوت ہے مگر جلد یہ لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہوں گے۔میں ہر ایک شخص کو جس پر میری اطاعت فرض ہے اس کے فرض سے سبکدوش کرتا ہوں اور اپنا حق معاف کرتا ہوں ۲۵ مگر صحابہ اور دیگر لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور تلواریں پکڑ کر باہر نکلے۔ان کے باہر نکلتے وقت حضرت ابو ہریرہ بھی آگئے اور با وجود اس کے کہ وہ فوجی آدمی نہ تھے وہ بھی ان کے ساتھ مل گئے اور فرمایا کہ آج کے دن کی لڑائی سے بہتر اور کون سی لڑائی ہو سکتی ہے اور پھر باغیوں کی طرف دیکھ کر فرمایا ويقوم مَا لِي ادْعُوكُمْ إِلَى النّجوةِ وَ تَدْعُونَنِي إلى النارث سے یعنی اے میری قوم ! کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھ کو آگ کی طرف بلاتے ہو۔صحابہؓ کی مفسدوں سے لڑائی یہ لڑائی ایک خاص لڑائی تھی اور مٹھی بھر صحا بہ جو اُس وقت جمع ہو سکے انہوں نے اس لشکرِ