خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 317
خلافة على منهاج النبوة ۳۱۷ جلد اول حضرت اُم حبیبہ سے مفسدوں کا سلوک امہات المومنین میں سے سب سے پہلے حضرت ام حبیبہ آپ کی مدد کے لئے آئیں۔ایک خچر پر سوار تھیں۔آپ اپنے ساتھ ایک مشکیزہ پانی کا بھی لائیں۔لیکن اصل غرض آپ کی یہ تھی کہ بنوامیہ کے یتامی اور بیواؤں کی وصیتیں حضرت عثمان کے پاس تھیں اور آپ نے جب دیکھا کہ حضرت عثمان کا پانی باغیوں نے بند کر دیا ہے تو آپ کو خوف ہوا کہ وہ وصایا بھی کہیں تلف نہ ہو جائیں اور آپ نے چاہا کہ کسی طرح وہ وصا یا محفوظ کر لی جائیں ورنہ پانی آپ کسی اور ذریعہ سے بھی پہنچا سکتی تھیں۔جب آپ حضرت عثمان کے دروازے تک پہنچیں تو باغیوں نے آپ کو روکنا چاہا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ اُم المؤمنین ام حبیبہ ہیں مگر اس پر بھی وہ لوگ باز نہ آئے اور آپ کی خچر کو مارنا شروع کیا۔اُم المؤمنین ام حبیبہ نے فرمایا کہ میں ڈرتی ہوں کہ بنوامیہ کے یتامیٰ اور بیوگان کی وصایا ضائع نہ ہو جائیں اس لئے اندر جانا چاہتی ہوں تاکہ ان کی حفاظت کا سامان کر دوں۔مگران بدبختوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کو جواب دیا کہ تم جھوٹ بولتی ہو اور آپ کی خچر پر حملہ کر کے اس کے پالان کے رستے کاٹ دیئے اور زین الٹ گئی۔اور قریب تھا کہ حضرت اُمّ حبیبہ گرکران مفسدوں کے پیروں کے نیچے روندی جا کر شہید ہو جاتیں کہ بعض اہل مدینہ نے جو قریب تھے جھپٹ کر آپ کو سنبھالا اور گھر پہنچا دیا۔۳۸ حضرت اُم حبیبہ کی دینی غیرت کا نمونہ یہ وہ سلوک تھا جو ان لوگوں نے زوجه آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ مطہرہ سے کیا۔حضرت اُم حبیبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا اخلاص اور عشق رکھتی تھیں کہ جب پندرہ سولہ سال کی جدائی کے بعد آپ کا باپ جو عرب کا سردار تھا اور مکہ میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا ایک خاص سیاسی مشن پر مدینہ آیا اور آپ کے ملنے کے لئے گیا تو آپ نے اس کے نیچے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کھینچ لیا۔اس لئے کہ خدا کے رسول کے پاک کپڑے سے ایک مشرک کے نجس جسم کو چھوتے ہوئے دیکھنا آپ کی طاقت برداشت سے باہر تھا۔تعجب ہے کہ حضرت اُم حبیبہ نے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت میں