خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 316
خلافة على منهاج النبوة ٣١٦ جلد اول جب تک ان لوگوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنیکا فیصلہ نہیں کیا تھا تب تک تو لوگوں سے زیادہ تعرض نہیں کرتے تھے مگر محاصرہ کرنے کے ساتھ ہی دوسرے لوگوں پر بھی سختیاں شروع کر دیں۔اب مدینہ دارالامن کی بجائے دارالحرب ہو گیا۔اہل مدینہ کی عزت اور نگ و ناموس خطرہ میں تھی اور کو ئی شخص اسلحہ کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا تھا اور جو شخص ان کا مقابلہ کرتا اسے قتل کر دیتے تھے۔حضرت علی کا محاصرہ جب ان لوگوں نے حضرت عثمان کا محاصرہ کر لیا اور پانی تک اندر جانے سے روک دیا تو حضرت کرنے والوں کو نصیحت کرنا عثمان نے اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو حضرت علی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور اُمہات المؤمنین کی طرف بھیجا کہ ان لوگوں نے ہمارا پانی بھی بند کر دیا ہے آپ لوگوں سے اگر کچھ ہو سکے تو کوشش کریں اور ہمیں پانی پہنچائیں۔مردوں میں سب سے پہلے حضرت علیؓ آئے اور آپ نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ تم لوگوں نے کیا رویہ اختیار کیا ہے۔تمہارا عمل تو نہ مومنوں سے ملتا ہے نہ کافروں سے۔حضرت عثمان کے گھر میں کھانے پینے کی چیزیں مت روکو۔روم اور فارس کے لوگ بھی قید کرتے ہیں تو کھانا کھلاتے ہیں اور پانی پلاتے ہیں اور اسلامی طریق کے موافق تو تمہارا یہ فعل کسی طرح جائزہ نہیں کیونکہ حضرت عثمان نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم ان کو قید کر دینے اور قتل کر دینے کو جائز سمجھنے لگے ہو۔حضرت علیؓ کی اس نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اس شخص تک دانہ پانی نہ پہنچنے دیں گے۔یہ وہ جواب تھا جو انہوں نے اُس شخص کو دیا جسے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی اور آپ کا حقیقی جانشین قرار دیتے تھے۔اور کیا اس جواب کے بعد کسی اور شہادت کی بھی اس امر کے ثابت کرنے کے لئے ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ حضرت علی کا وصی قرار دینے والا گروہ حق کی حمایت اور اہل بیت کی محبت کی خاطر اپنے گھروں سے نہیں نکلا تھا بلکہ اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنے کے لئے۔