خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 318
خلافة على منهاج النبوة ۳۱۸ جلد اول آپ کے کپڑے تک کی حرمت کا خیال رکھا مگر ان مفسدوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت میں آپ کے حرم محترم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا۔نادانوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی جھوٹی ہیں حالانکہ جو کچھ انہوں نے فرمایا تھا وہ درست تھا۔حضرت عثمان بنوامیہ کے یتامیٰ کے ولی تھے اور ان لوگوں کی بڑھتی ہوئی عداوت کو دیکھ کر آپ کا خوف درست تھا کہ یتامی اور بیواؤں کے اموال ضائع نہ ہو جائیں۔جھوٹے وہ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی کرتے ہوئے ان کے دین کی تباہی کا بیڑا اٹھایا تھا نہ اُم المؤمنین ام حبیبہ ۳۹ حضرت عائشہ کی حج کے لئے تیاری رض حضرت اُم حبیبہ کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا تھا جب اس کی خبر مدینہ میں پھیلی تو صحابہ اور اہل مدینہ حیران رہ گئے اور سمجھ لیا کہ اب ان لوگوں سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنی فضول ہے۔حضرت عائشہ نے اُسی وقت حج کا ارادہ کر لیا اور سفر کی تیاری شروع کر دی۔جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ مدینہ سے جانے والی ہیں تو بعض نے آپ سے درخواست کی کہ اگر آپ یہیں ٹھہریں تو شاید فتنہ کے روکنے میں کوئی مدد ملے اور باغیوں پر کچھ اثر ہو۔مگر انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ مجھ سے بھی وہی سلوک ہو جو اُم حبیبہ سے ہوا ہے۔خدا کی قسم ! میں اپنی عزت کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتی ( کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت تھی ) اگر کسی قسم کا معاملہ مجھ سے کیا گیا تو میری حفاظت کا کیا سامان ہو گا خدا ہی جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنی شرارتوں میں کہاں تک ترقی کریں گے اور ان کا کیا انجام ہوگا۔حضرت عائشہ صدیقہ نے چلتے چلتے ایک ایسی تدبیر کی جو اگر کارگر ہو جاتی تو شاید فساد میں کچھ کمی ہو جاتی۔اور وہ یہ کہ اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو کہلا بھیجا کہ تم بھی میرے ساتھ حج کو چلو مگر اس نے انکار کر دیا۔اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا کیا کروں بے بس ہوں اگر میری طاقت ہوتی تو ان لوگوں کو اپنے ارادوں میں کبھی کامیاب نہ ہونے دیتی۔