خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 315
خلافة على منهاج النبوة ۳۱۵ جلد اول حضرت عثمان خلافت سے دست بردار ہو جائیں مگر حضرت عثمان نے اس امر سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ جو قمیض مجھے خدا تعالیٰ نے پہنائی ہے میں اسے اُتار نہیں سکتا اور نہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ چھور سکتا ہوں کہ جس کا جی چاہے دوسرے پر ظلم کرے۔۳۷ے اور ان لوگوں کو بھی سمجھاتے رہے کہ اس فساد سے باز آجاویں اور فرماتے رہے کہ آج یہ لوگ فساد کرتے ہیں اور میری زندگی سے بیزار ہیں مگر جب میں نہ رہوں گا تو خواہش کر یں گے کہ کاش! عثمان کی عمر کا ایک ایک دن ایک ایک سال سے بدل جاتا اور وہ ہم سے جلدی رُخصت نہ ہوتا۔کیونکہ میرے بعد سخت خون ریزی ہوگی اور حقوق کا اتلاف ہوگا اور انتظام کچھ کا کچھ بدل جائے گا۔(چنانچہ بنوامیہ کے زمانہ میں خلافت حکومت سے بدل گئی اور ان مفسدوں کو ایسی سزائیں ملیں کہ سب شرارتیں ان کو بھول گئیں ) حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ ہیں دن گزرنے کے بعد ان لوگوں کو خیال ہوا کہ اب جلدی ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے تا ایسا نہ ہو کہ صوبہ جات سے فوجیں آجاویں اور ہمیں اپنی اعمال کی سزا بھگتنی پڑے اس لئے انہوں نے حضرت عثمان کا گھر سے نکلنا بند کر دیا اور کھانے پینے کی چیزوں کا اندر جانا بھی روک دیا اور سمجھے کہ شاید اس طرح مجبور ہو کر حضرت عثمان ہمارے مطالبات کو قبول کر لیں گے۔مدینہ کا انتظام اب ان لوگوں کے ہاتھ میں تھا اور تینوں فوجوں نے مل کر مصر کی فوجوں کے سردار غافقی کو اپنا سردار تسلیم کر لیا تھا۔اس طرح مدینہ کا حاکم گویا اُس وقت غافقی تھا اور کوفہ کی فوج کا سردار اشتر اور بصرہ کی فوج کا سردار حکیم بن جبلہ ( وہی ڈا کو جسے اہل ذمہ کے مال لوٹنے پر حضرت عثمان نے بصرہ میں نظر بند کر دینے کا حکم دیا تھا ) دونوں غافقی کے ماتحت کام کرتے تھے اور اس سے ایک دفعہ پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس فتنہ کی اصل جڑ مصری تھے جہاں عبداللہ بن سبا کام کر رہا تھا۔مسجد نبوی میں غافقی نماز پڑھاتا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اپنے گھروں میں مقید رہتے یا اس کے پیچھے نماز ادا کر نے پر مجبور تھے۔