خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 314

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۴ جلد اول شہید ہو گئے تھے اور حضرت عثمان نے اس کی تربیت اپنی ذمہ لے لی تھی اور بچپن سے آپ نے اسے پالا تھا۔جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو اس نے آپ سے کوئی عہدہ طلب کیا آپ نے انکار کیا۔اس پر اس نے اجازت چاہی کہ میں کہیں باہر جا کر کوئی کام کروں۔آپ نے اجازت دے دی اور یہ مصر چلا گیا۔وہاں جا کر عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں سے مل کر حضرت عثمان کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا نا شروع کیا۔جب اہل مصر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تو یہ ان کے ساتھ ہی آیا مگر کچھ دور تک آ کر واپس چلا گیا اور اس فتنہ کے وقت مدینہ میں نہیں تھا۔۳۶ تیسرے شخص عمار بن یا سر تھے یہ صحابہ میں سے تھے اور ان کے دھوکا کھانے کی وجہ یہ تھی کہ یہ سیاست سے باخبر نہ تھے۔جب حضرت عثمان نے ان کو مصر بھیجا کہ وہاں کے والی کے انتظام کے متعلق رپورٹ کریں تو عبد اللہ بن سبا نے ان کا استقبال کر کے ان کے خیالات کو مصر کے گورنر کے خلاف کر دیا۔اور چونکہ وہ گورنر ایسے لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ایام کفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت مخالفت کی تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لایا تھا اس لئے آپ بہت جلد ان لوگوں کے قبضہ میں آگئے۔والی کے خلاف بدظنی پیدا کرنے کے بعد آہستہ آہستہ حضرت عثمان پر بھی انہوں نے ان کو بدظن کر دیا۔مگر انہوں نے عملاً فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا۔کیونکہ باوجود اس کے کہ مدینہ پر حملہ کے وقت یہ مدینہ میں موجود تھے سوائے اس کے کہ اپنے گھر میں خاموش بیٹھے رہے ہوں اور ان مفسدوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے کوئی حصہ نہ لیا ہو عملی طور پر انہوں نے فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا اور ان مفسدوں کی بداعمالیوں سے ان کا دامن بالکل پاک ہے۔حضرت عثمان کو خلافت سے ان تین کے سوا باقی کوئی شخص اہل مدینہ میں سے صحابی ہو یا غیر صحابی ان مفسدوں دست برداری کیلئے مجبور کیا جانا کا ہمدرد نہ تھا اور ہر ایک شخص ان کے لعنت ملامت کرتا تھا۔مگر ان کے ہاتھ میں اُس وقت سب انتظام تھا یہ کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے تھے۔میں دن تک یہ لوگ صرف زبانی طور پر کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح