خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 313
خلافة على منهاج النبوة ٣١٣ جلد اول لوگوں سے نہ لڑیں اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔حضرت عثمان کی محبت جو آپ کو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت سے تھی اس نے بے شک اس لڑائی کو جو چند جان فروش صحابہ اور اس دو تین ہزار کے باغی لشکر کے درمیان ہونے والی تھی روک دیا۔مگر اس واقعہ سے یہ بات ہمیں خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جاتی ہے کہ صحابہ میں ان لوگوں کی شرارتوں پر کس قدر جوش پیدا ہو رہا تھا۔کیونکہ چند آدمیوں کا ایک لشکر جرار کے مقابلہ پر آمادہ ہو جانا ایسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ لوگ اس لشکر کی اطاعت کو موت سے بدتر خیال کریں۔اس جماعت میں ابو ہریرہ اور امام حسن کی شرکت خاص طور پر قابل غور ہے کیونکہ حضرت ابو ہریر کا فوجی آدمی نہ تھے اور اس سے پیشتر کوئی خاص فوجی خدمت ان سے نہیں ہوئی۔اسی طرح حضرت امام حسن گو ایک جری باپ کے بیٹے اور خود جری اور بہادر تھے مگر آپ صلح اور امن کو بہت پسند فرماتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کے مطابق صلح کے شہزادے تھے۔ان دو شخصوں کا اس موقع پر تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو جانا دلالت کرتا ہے کہ صحابہ اور دیگر اہل مدینہ ان مفسدوں کی شرارت پر سخت ناراض تھے۔مدینہ میں مفسدوں کے تین بڑے ساتھی صرف تین مشخص مدینہ کے باشندے ان لوگوں کے ساتھی تھے ایک تو محمد بن ابی بکر جو حضرت ابوبکر کے لڑکے تھے اور مورخین کا خیال ہے کہ بوجہ اس کے کہ لوگ ان کے باپ کے سبب ان کا ادب کرتے تھے ان کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ میں بھی کوئی حیثیت رکھتا ہوں ورنہ نہ ان کو دنیا میں کوئی سبقت حاصل تھی نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی نہ بعد میں ہی خاص طور پر دینی تعلیم حاصل کی۔حجتہ الوداع کے ایام میں پیدا ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ابھی دودھ پیتے بچے تھے۔چوتھے سال ہی میں تھے کہ حضرت ابو بکر فوت ہو گئے اور اس بے نظیر انسان کی تربیت سے بھی فائدہ اُٹھانے کا موقع نہیں ملا ۳۵ دوسر اشخص محمد بن ابی حذیفہ تھا یہ بھی صحابہ میں سے نہ تھا اس کے والد یمامہ کی لڑائی میں