خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 312

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۲ جلد اول میں جس کی بنیا د محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی اور جس کی تعمیر نہایت مقدس ہاتھوں سے ہوئی تھی کنکروں کا مینہ برسانا شروع کیا اور کنکر مار مار کر صحابہ کرام اور اہل مدینہ کو مسجد نبوی سے باہر نکال دیا اور حضرت عثمان پر اس قدر کنکر برسائے گئے کہ آپ بے ہوش ہو کر منبر پر سے گر گئے اور چند آدمی آپ کو اُٹھا کر گھر چھوڑ آئے۔یہ اس محبت کا نمونہ تھا جو ان لوگوں کو اسلام اور حاملانِ شریعت اسلام سے تھی۔اور یہ وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کو یہ لوگ حضرت عثمان کو خلافت سے علیحدہ کر کے عالم اسلام میں جاری کرنا چاہتے تھے۔اس واقعہ کے بعد کون کہ سکتا ہے کہ حضرت عثمان کے مقابلہ میں کھڑی ہونے والی جماعت صحابہ سے کوئی تعلق رکھتی تھی یا یہ کہ فی الواقعہ حضرت عثمان کی بعض کارروائیوں سے وہ شورش کرنے پر مجبور ہوئے تھے یا یہ کہ حمیت اسلامیہ ان کے غیظ و غضب کا باعث تھی۔ان کی بدعملیاں اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ نہ اسلام سے ان کو کو ئی تعلق تھا ، نہ دین سے ان کو کوئی محبت تھی ، نہ صحابہ سے ان کو کوئی اُنس تھا۔وہ اپنی مخفی اغراض کے پورا کر نے کے لئے ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے پر آمادہ ہو رہے تھے اور اسلام کے قلعہ میں نقب زنی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔صحابہ کی مفسدوں کے خلاف جنگ پر آمادگی اس واقعہ بائکہ کے بعد صحابہ اور اہل مدینہ نے سمجھ لیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں اس سے بھی زیادہ بغض بھرا ہوا ہے جس قدر کہ یہ ظاہر کرتے ہیں۔گو وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے مگر بعض صحابہ جو اس حالت سے موت کو بہتر سمجھتے تھے اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو جاوے ہم ان سے جنگ کریں گے۔اس دو تین ہزار کے لشکر کے مقابلہ میں چار پانچ آدمیوں کا لڑنا دنیا داری کی نظروں میں شاید جنون معلوم ہولیکن جن لوگوں نے اسلام کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہوا تھا انہیں اس کی حمایت میں لڑنا کچھ بھی دوبھر نہیں معلوم ہوتا تھا۔ان لڑائی پر آمادہ ہو جانے والوں میں مفصلہ ذیل صحابہ بھی شامل تھے۔سعد بن مالک ، حضرت ابو ہر سیرہ ، زید بن صامت اور حضرت امام حسن۔جب حضرت عثمان کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فوراً ان کو کہلا بھیجا کہ ہرگز ان