خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 311

خلافة على منهاج النبوة ٣١١ جلد اول ہوں۔ان لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عثمان پر تو ہمارے ساتھی بدظن ہیں لیکن صحابہ نے اگر آپ کی تصدیق کرنی شروع کی اور ہماری جماعت کو معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری نسبت خاص طور پر پیشگوئی فرمائی تھی تو عوام شاید ہمارا ساتھ چھوڑ دیں اس لئے انہوں نے اس سلسلہ کو روکنا شروع کیا اور محمد بن مسلمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابی کو جو تائید خلافت کے لئے نہ کسی فتنہ کے بر پا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے حکیم بن جبلہ ڈاکو نے جس کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں جبراً پکڑ کر بٹھا دیا۔اس پر زید بن ثابت جن کو قرآن کریم کے جمع کرنے کی عظیم الشان خدمت سپرد ہوئی تھی تصدیق کے لئے کھڑے ہوئے مگر ان کو بھی ایک اور شخص نے بٹھا دیا۔مفسدوں کا عصائے نبوی کو توڑنا اس کے بعد اس محبت اسلام کا دعوی کرنے والی جماعت کے ایک فرد نے حضرت عثمان کے ہاتھ سے وہ عصا جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ ایسا ہی کرتے رہے چھین لیا اور اس پر اکتفانہ کی بلکہ رسول کریم ﷺ کی اس یادگار کو جو امت اسلام کیلئے ہزاروں برکتوں کا موجب تھی اپنے گھٹنوں پر رکھ کر توڑ دیا۔حضرت عثمان سے ان کو نفرت سہی ، خلافت سے ان کو عداوت سہی مگر رسول کریم ﷺ سے تو ان کو محبت کا دعوی تھا پھر رسول کریم ﷺ کی اس یاد گار کو اس بے ادبی کے ساتھ تو ڑ دینے کی ان کو کیونکر جرات ہوئی۔یورپ آج دہریت کی انتہائی حد کو پہنچا ہوا ہے مگر یہ احساس اس میں بھی باقی ہے کہ اپنے بزرگوں کی یادگاروں کی قدر کرے۔مگر ان لوگوں نے باوجود دعوائے اسلام کے رسول کریم علیہ کے عصائے مبارک کو تو ڑ کر پھینک دیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نصرت کا جوش صرف دکھاوے کا تھا ورنہ اس گروہ کے سردار اسلام سے ایسے ہی دُور تھے جیسے کہ آج اسلام کے سب سے بڑ۔سے بڑے دشمن۔مفسدوں کا مسجد نبوی میں کنکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عصہ تو ڑ کر بھی ان لوگوں کے دلوں کو ٹھنڈک برسانا اور حضرت عثمان کو زخمی کرنا نہ حاصل ہوئی اور انہوں نے اس مسجد