خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 310
خلافة على منهاج النبوة جلد اول ارفع ہے ) کافی ہے۔۔اب میں پھر سلسلہ واقعات کی طرف مفسدوں کی اہل مدینہ پر زیادتیاں ہوتا ہوں۔اس جعلی خط کے زور پر اور اچانک مدینہ پر قبضہ کر لینے کے گھمنڈ پر ان مفسدوں نے خوب زیا دتیاں شروع کیں۔ایک طرف تو حضرت عثمان پر زور دیا جاتا کہ وہ خلافت سے دست بردار ہو جائیں دوسری طرف اہل مدینہ کو تنگ کیا جاتا کہ وہ حضرت عثمان کی مدد کے لئے کوشش نہ کریں۔اہل مدینہ بالکل بے بس تھے دو تین ہزار مسلح فوجی جو شہر کے راستوں اور چوکوں اور دروازوں کی ناکہ بندی کئے ہوئے تھے اس کا مقابلہ یوں بھی آسان نہ تھا مگر اس صورت میں کہ وہ چند آدمیوں کو بھی اکٹھا ہونے نہ دیتے تھے اور دو دو چار چار آدمیوں سے زیادہ آدمیوں کا ایک جگہ جمع ہونا ناممکن تھا ، باغی فوج کے مقابلہ کا خیال بھی دل میں لانا محال تھا۔اور اگر بعض منچلے جنگ پر آمادہ بھی ہوتے تو سوائے ہلاکت کے اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔مسجد ایک ایسی جگہ تھی جہاں لوگ جمع ہو سکتے تھے مگر ان لوگوں نے نہایت ہوشیاری سے اس کا بھی انتظام کر لیا تھا اور وہ یہ کہ نماز سے پہلے تمام مسجد میں پھیل جاتے اور اہل مدینہ کو اس طرح ایک دوسرے سے جدا جدا ر کھتے کہ وہ کچھ نہ کر سکتے۔حضرت عثمان کا مفسدوں کو نصیحت کرنا باوجود اس شور وفساد کے حضرت عثمان" نماز پڑھانے کے لئے با قاعدہ مسجد میں تشریف لاتے اور یہ لوگ بھی آپ سے اس معاملہ میں تعرض نہ کرتے اور امامت نماز سے نہ روکتے حتی کہ ان لوگوں کے مدینہ پر قبضہ کر لینے کے بعد سب سے پہلا جمعہ آیا۔حضرت عثمانؓ نے جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کو نصیحت فرمائی اور فر مایا کہ اے دشمنانِ اسلام ! خدا تعالیٰ کا خوف کرو۔تمام اہل مدینہ اس بات کو جانتے ہیں کہ تم لوگوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔پس تو بہ کرو اور اپنے گناہوں کو نیکیوں کے ذریعے سے مٹاؤ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو نیکیوں کے سوا کسی اور چیز سے نہیں مٹاتا۔اس پر محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں اس امر کی تصدیق کرتا