خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 281

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۱ جلد اول مدینے کے رہنے والے بعض لوگوں سے معلوم ہوا ہے کہ حکام لوگوں کو مارتے اور گالیاں دیتے ہیں اس لئے میں اس خط کے ذریعے سے عام اعلان کرتا ہوں کہ جس کسی کو خفیہ طور پر گالی دی گئی ہو یا پیٹا گیا ہو وہ حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں مجھ سے ملے اور جو کچھ اُس پر ظلم ہوا ہو خواہ میرے ہاتھوں سے خواہ میرے عاملوں کے ذریعے سے اُس کا بدلہ وہ مجھ سے اور میرے نائبوں سے لے لے یا معاف کر دے۔اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کو اپنے پاس سے جزا دیتا ہے۔یہ مختصر لیکن درد ناک خط جس وقت تمام ممالک میں منبروں پر پڑھا گیا تو عالم اسلام ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل گیا اور سامعین بے اختیار رو پڑے اور سب نے حضرت عثمان کے لئے دعائیں کیں اور ان فتنہ پردازوں پر جو اس ملت اسلام کے در در کھنے والے اور اس کا بوجھ اُٹھانے والے انسان پر حملہ کر رہے تھے اور اُس کو دکھ دے رہے تھے اظہار افسوس کیا گیا۔حضرت عثمان نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنے عمال کو ان الزامات کے جواب دینے کے لئے جو ان پر لگائے جاتے تھے خاص طور پر طلب کیا۔جب سب والی جمع ہو۔ہو گئے تو آپ نے ان سے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ لوگوں کے خلاف الزام لگائے جاتے ہیں مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں یہ باتیں درست ہی نہ ہوں۔اس پر ان سب نے جواب میں عرض کیا کہ آپ نے معتبر آدمیوں کو بھیج کر دریافت کر لیا ہے کہ کوئی ظلم نہیں ہوتا نہ خلاف شریعت کوئی کام ہوتا ہے اور آپ کے بھیجے ہوئے معتبروں نے سب لوگوں سے حالات دریافت کئے۔ایک شخص بھی ان کے سامنے آکر ان شکایات کی صحت کا جو بیان کی جاتی ہیں مدعی نہیں ہوا پھر شک کی کیا گنجائش ہے۔خدا کی قسم ہے کہ ان لوگوں نے سچ سے کام نہیں لیا اور نہ تقویٰ اللہ سے کام لیا ہے اور ان کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں ایسی بے بنیاد باتوں پر گرفت جائز نہیں ہوسکتی نہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ پھر مجھے مشورہ دو کہ کیا کیا جاوے؟ اس پر مختلف مشورے آپ کو دیئے گئے جن سب کا ماحصل یہی تھا کہ آپ سختی کے موقع پر سختی سے کام لیں اور ان فسادیوں کو اس قدر ڈھیل نہ دیں اس سے ان میں دلیری پیدا ہوتی ہے۔شریر صرف سزا سے