خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 280
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۰ جلد اول اچانک ہوا تھا کہ دوسرے علاقوں میں وہ کوئی انتظام نہیں کر سکا تھا۔مگر مصر کا انتظام اس کے لئے آسان تھا جو نہی عمار بن یاسر مصر میں داخل ہوئے اس نے ان کا استقبال کیا اور والی مصر کی بُرائیاں اور مظالم بیان کرنے شروع کئے۔وہ اس کے لسانی سحر کے اثر سے محفوظ نہ رہا سکے اور بجائے اس کے کہ ایک عام بے لوث تحقیق کرتے والی مصر کے پاس گئے ہی نہیں اور نہ عام تحقیق کی بلکہ اسی مفسد گروہ کے ساتھ چلے گئے اور انہی کے ساتھ مل کر اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔صحابہ میں سے اگر کوئی شخص اس مفسد گروہ کے پھندے میں پھنسا ہوا یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے تو وہ صرف عمار بن یاسر ہیں۔ان کے سوا کوئی معروف صحابی اس حرکت میں شامل نہیں ہوا۔اور اگر کسی کی شمولیت بیان کی گئی ہے تو دوسری روایات سے اس کا رڈ بھی ہو گیا ہے۔عمار بن یاسر کا ان لوگوں کے دھو کے میں آجانا ایک خاص وجہ سے تھا اور وہ یہ کہ جب وہ مصر پہنچے تو وہاں پہنچتے ہی بظا ہر ثقہ نظر آنے والے اور نہایت طرار ولستان لوگوں کی ایک جماعت ان کو ملی جس نے نہایت عمدگی سے ان کے پاس والی مصر کی شکایات بیان کرنی شروع کیں۔اتفاقاً والی مصر ایک ایسا شخص تھا جو کبھی رسول کریم ﷺ کا سخت مخالف رہ چکا تھا اور اس کی نسبت آپ نے فتح مکہ کے وقت حکم دیا تھا کہ خواہ خانہ کعبہ ہی میں کیوں نہ ملے اسے قتل کر دیا جائے اور گو بعد میں آپ نے اسے معاف کر دیا مگر اس کی پہلی مخالفت کا بعض صحابہ کے دل پر جن میں عمار بھی شامل تھے اثر باقی تھا پس ایسے شخص کے خلاف باتیں سن کر عمار بہت جلد متاثر ہو گئے اور ان الزامات کو جو اس پر لگائے جاتے تھے صحیح تسلیم کر لیا اور احساس طبعی سے فائدہ اُٹھا کر سبائی یعنی عبد اللہ بن سبا کے ساتھی اس کے خلاف اس بات پر خاص زور دیتے تھے۔پس حضرت عثمان کی نیک نیتی اور اخلاص کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ باوجود اس کے کہ سوائے ایک شخص کے سب وفدوں نے حکام کی بریت کا فیصلہ دیا تھا حضرت عثمان نے اس ایک مخالف رائے کی قدر کر کے ایک خط تمام علاقوں کے لوگوں کی طرف بھیجا جس کا مضمون یہ تھا کہ میں جب سے خلیفہ ہوا ہوں اَمْرِ بِالْمَعْرُوف اور نَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ پر میرا عمل ہے اور میرے رشتہ داروں کا عام مسلمانوں سے زیادہ کوئی حق نہیں۔مگر مجھے