خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 282
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۲ جلد اول صلى اللهي ہی درست ہوسکتا ہے نرمی اسی سے کرنی چاہئے جو نرمی سے فائدہ اُٹھائے۔حضرت عثمان نے سب کا مشورہ سن کر فرمایا۔جن فتنوں کی خبر رسول کریم میں دے چکے ہیں وہ تو ہو کر رہیں گے ہاں نرمی سے اور محبت سے ان کو ایک وقت تک روکا جاسکتا ہے۔پس میں سوائے حدود اللہ کے ان لوگوں سے نرمی ہی سے معاملہ کروں گا تا کہ کسی شخص کی میرے خلاف حجت حقہ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں سے بھلائی میں کوئی کمی نہیں کی۔مبارک ہو عثمان کے لئے اگر وہ فوت ہو جاوے اور فتنوں کا سیلاب جو اسلام پر آنے والا ہے وہ ابھی شروع نہ ہوا ہو۔پس جاؤ اور لوگوں سے نرمی سے معاملہ کرو اور ان کے حقوق ان کو دو اور ان کی غلطیوں سے درگزر کر و۔ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کو کوئی توڑے تو ایسے شخصوں سے نرمی اور عفو کا معاملہ نہ کرو۔حج سے واپسی پر حضرت معاویہؓ بھی حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے کچھ دن ٹھہر کر آپ واپس جانے لگے تو آپ نے حضرت عثمان سے علیحدہ مل کر درخواست کی کہ فتنہ بڑھتا معلوم ہوتا ہے اگر اجازت ہو تو میں اس کے متعلق کچھ عرض کروں۔آپ نے فرمایا کہو۔اس پرانہوں نے کہا کہ اول میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ شام چلے چلیں کیونکہ شام میں ہر طرح سے امن ہے اور کسی قسم کا فساد نہیں ایسا نہ ہو کہ یکدم کسی قسم کا فسادا تھے اور اُس وقت کوئی انتظام نہ ہو سکے۔حضرت عثمانؓ نے اُن کو جواب دیا کہ میں رسول کریم ﷺ کی ہمسائیگی کو کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا خواہ جسم کی دھجیاں اُڑا دی جائیں۔حضرت معاویہ نے کہا کہ پھر دوسرا مشورہ یہ ہے کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ایک دستہ شامی فوج کا آپ کی حفاظت کے لئے بھیج دوں ان لوگوں کی موجودگی میں کوئی شخص شرارت نہیں کر سکے گا۔حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ نہ میں عثمان کی حفاظت کے لئے اس قدر بوجھ بیت المال پر ڈال سکتا ہوں اور نہ یہ پسند کر سکتا ہوں کہ مدینہ کے لوگوں کو فوج رکھ کر تنگی میں ڈالوں۔اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کی کہ پھر تیسری تجویز یہ ہے کہ صحابہ کی موجودگی میں لوگوں کو جرات ہے کہ اگر عثمان نہ رہے تو ان میں سے کسی کو آگے کھڑا کر دیں گے ان لوگوں کو مختلف ملکوں میں پھیلا دیں۔حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں کو