خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 279
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۹ جلد اول اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو یہ کہ لوگوں کو حدود کے اندر رہنے پر مجبور کرتے ہیں ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے بعد کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ فساد چند شریر النفس آدمیوں کی شرارت و عبد اللہ بن سبا کی انگیخت کا نتیجہ تھا ور نہ حضرت عثمان اور ان کے تو اب ہر قسم کے اعتراضات سے پاک تھے۔حق یہی ہے کہ یہ سب شورش ایک خفیہ منصوبہ کا نتیجہ تھی جس کے اصل بانی یہودی تھے۔جن کے ساتھ طمع دنیاوی میں مبتلاء بعض مسلمان جو دین سے نکل چکے تھے شامل ہو گئے تھے ور نہ امرائے پلا د کا نہ کوئی قصور تھا نہ وہ اس فتنہ کے باعث تھے۔ان کا صرف اسی قدر قصور تھا کہ ان کو حضرت عثمانؓ نے اس کام کے لئے مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان کا یہ قصور تھا کہ با وجود پیرانہ سالی اور نقاہت بدنی کے اتحاد اسلام کی رسی کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے بیٹھے تھے اور اُمتِ اسلامیہ کا بوجھ اپنی گردن پر اُٹھائے ہوئے تھے اور شریعت اسلام کے قیام کی فکر رکھتے تھے اور متمر دین اور ظالموں کو اپنی حسب خواہش کمزوروں اور بے وارثوں پر ظلم و تعدی کرنے نہ دیتے تھے۔چنانچہ اس امر کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ کوفہ میں انہی فساد چاہنے والوں کی ایک مجلس بیٹھی اور اس میں افساد امرالمسلمین پر گفتگو ہوئی تو سب لوگوں نے بالا تفاق یہی رائے دی لَا وَاللَّهِ لَا يَرْفَعُ رَأْسٌ مَادَامَ عُثْمَانُ عَلَى النَّاسِ * یعنی کوئی شخص اُس وقت تک سر نہیں اُٹھا سکتا جب تک کہ عثمان کی حکومت ہے۔عثمان ہی کا ایک وجود تھا جو سرکشی سے باز رکھے ہوئے تھا۔اس کا درمیان سے ہٹا نا آزادی سے اپنی مراد میں پوری کرنے کے لئے ضروری تھا۔میں نے بتایا تھا کہ عمار بن یاسر جن کو مصر کی طرف روانہ کیا گیا تھا وہ واپس نہیں آئے۔ان کی طرف سے خبر آنے میں اس قدر دیر ہوئی کہ اہل مدینہ نے خیال کیا کہ کہیں مارے گئے ہیں مگر اصل بات یہ تھی کہ وہ اپنی سادگی اور سیاست سے ناواقفیت کی وجہ سے ان مفسدوں کے پنجہ میں پھنس گئے تھے جو عبد اللہ بن سبا کے شاگرد تھے۔مصر میں چونکہ خود عبد اللہ بن سبا موجود تھا اور وہ اس بات سے غافل نہ تھا کہ اگر اس تحقیقاتی وفد نے تمام ملک میں امن و امان کا فیصلہ دیا تو تمام لوگ ہمارے مخالف ہو جائیں گے اس وفد کے بھیجے جانے کا فیصلہ ایسا