خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 278

خلافة على منهاج النبوة ۲۷۸ جلد اول کرا رہے تھے اور اس میں حضرت عمر جیسے بڑے بڑے صحابیوں کو آپ کے ماتحت کیا اور آنحضرت ﷺ کا یہ انتخاب صرف دلداری کے طور پر ہی نہ تھا بلکہ بعد کے واقعات نے الله ثابت کر دیا کہ وہ بڑے بڑے کاموں کے اہل تھے۔رسول کریم عملہ ان سے اس قدر محبت کرتے کہ دیکھنے والے فرق نہ کر سکتے تھے کہ آپ ان کو زیادہ چاہتے ہیں یا حضرت امام حسن کو۔محمد بن مسلم بھی جن کو کوفہ بھیجا گیا جلیل القدر صحابہ میں سے تھے اور صحابہ میں خاص عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور نہایت صاحب رسوخ تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ جن کو شام کی طرف روانہ کیا گیا ایسے لوگوں میں سے ہیں جن کے تعارف کی ضرورت ہی نہیں۔آپ سابق بالعبد مسلمانوں میں سے تھے اور زہد و تقوی اللہ میں آپ کی وہ شان تھی کہ اکابر صحابہ بھی آپ کی ان خصوصیات کی وجہ سے آپ کا خاص ادب کرتے تھے۔حضرت علیؓ کے بعد اگر کسی صحابی پر صحابہ اور دوسرے بزرگوں کی نظر خلافت کے لئے پڑی تو آپ پر پڑی۔مگر آپ نے دنیا سے علیحد گی کو اپنا شعار بنا رکھا تھا۔شعائر دینیہ کے لئے آپ کو اس قدر غیرت تھی کہ بعض دفعہ آپ نے خود عمر بن الخطاب سے بڑی سختی سے بحث کی۔غرض حق گوئی میں آپ ایک کھنچی ہوئی تلوار تھے۔آپ کا انتخاب شام کے لئے نہایت ہی اعلیٰ انتخاب تھا کیونکہ بوجہ اس کے کہ حضرت معاویہ دیر سے شام کے حاکم تھے اور وہاں کے لوگوں پر ان کا بہت رُعب تھا اور بوجہ ان کی ذکاوت کے ان کے انتظام کی تحقیق کرنا کسی معمولی آدمی کا کام نہ تھا۔اس جگہ کسی دوسرے آدمی کا بھیجا جانا فضول تھا اور لوگوں کو اس کی تحقیق پر تسلی بھی نہ ہوتی مگر آپ کی سبقت ایمانی اور غیرتِ اسلامی اور حریت اور تقوی و زہد ایسے کمالات تھے کہ ان کے سامنے معاویہ دم نہ مار سکتے تھے اور نہ ایسے شخص کی موجودگی میں حضرت معاویہ کا رعب کسی شخص پر پڑ سکتا تھا۔غرض جو لوگ تحقیق کے لئے بھیجے گئے تھے وہ نہایت عظیم الشان اور بے تعلق لوگ تھے اور ان کی تحقیق پر کسی شخص کو اعتراض کی گنجائش حاصل نہیں پس ان تینوں صحابہ کا مع اُن دیگر آدمیوں کے جو دوسرے پلا د میں بھیجے گئے تھے متفقہ طور پر فیصلہ دینا کہ ملک میں بالکل امن وامان ہے، ظلم و تعدی کا نام و نشان نہیں ، حکام عدل وانصاف سے کام لے رہے ہیں