خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 10
خلافة على منهاج النبوة جلد اول کہ وہ ان کے گناہوں کو معاف کرے اور حکومت کے بارہ میں ان سے مشورہ کر لیا کر۔پھر جب مشورہ کے بعد تو ایک بات کا پختہ ارادہ کر لے تو خدا پر توکل کر کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے پر تو کل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کے لئے سرگر وہانِ قوم سے بلکہ بعض دفعہ ساری قوم سے مشورہ کرنے کا حکم ہے اور اس کا فرض ہے کہ گل اہم مسائل میں لوگوں سے مشورہ کر لیا کرے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان مشوروں پر کار بند بھی ضرور ہو بلکہ مشورہ کے بعد جو فیصلہ اُس کا دل کرے اُس پر کار بند ہو اور خدا پر توکل کر کے اسے جاری کر دے۔احادیث و آثار سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ حکم اصل میں خلفا ء کیلئے ہیں۔چنانچہ حسن بصری کا قول ہے کہ یہ حکم اس لئے نازل ہوا کہ لوگوں کے لئے سنت ہو جائے اور آئندہ خلفا ءاس پر عمل کریں۔امام سیوطی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اَمَّا انَّ اللهَ وَ رَسُولَهُ لَيَغْنِيَان عَنْهَا وَلَكِنَّ اللَّهَ جَعَلَهَا رَحْمَةً لِأُمَّتِي فَمَنِ اسْتَشَارَ مِنْ أُمَّتِي لَمْ يَعْدَمُ رُشْدًا وَمَنْ تَرَكَهَا لَمْ يَعْدَمُ غَيًّا اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس مشورہ سے غنی ہیں لیکن خدا نے میری اُمت پر رحم کر کے یہ حکم دیا ہے۔پس جس نے میری اُمت میں سے مشورہ کیا ہدایت سے بے بہرہ نہ ہوگا اور جس نے مشورہ نہ کیا ہلاکت میں پڑ جائے گا۔اس آیت اور احادیث و آثار سے یہ بات صاف ثابت ہے کہ اسلامی خلافت اسی کا نام ہے کہ ایک خلیفہ ہو جو عمر بھر کے لئے مقرر کیا جائے اور اسی کے ساتھ ایک مشیروں کی جماعت ہو جس سے وہ مشورہ کرے۔لیکن وہ اُن کے مشوروں پر کار بند ہونے کے لئے مجبور نہ ہوگا بلکہ جب وہ مشورہ کے بعد ایک رائے پر پختہ ہو جائے تو خواہ کثرتِ رائے اس کے موافق ہو یا مخالف تو کل علی اللہ کر کے اس کام کو شروع کر دے۔خلفاء کا دستور العمل قرآن و حدیث سے اس مسئلہ کے متعلق اپنی تحقیق بیان کرنے کے بعد اب میں خلفاء کا دستور العمل بیان کرتا ہوں مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگوں نے واقعات کو اس طرح موڑ تو ڑ کر بیان کیا ہے کہ جس۔عوام کو دھوکا ہو جاوے۔حتی کہ ایک بہت بڑے مؤرخ نے زمانہ حال میں ایک خلیفہ کی