خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 11
خلافة على منهاج النبوة 11 جلد اوّل سوانح عمری میں بالالتزام اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کس طرح نوجوان پارٹی کو خوش کرے اور اسلام میں پارلیمنٹ ثابت کرے۔انالله وانا اليورْجِعُونَ۔اس مؤرخ نے بھی اور چند دیگر مدعیان حریت نے بھی چند واقعات یاد کئے ہوئے ہیں کہ جنہیں وہ ہر موقع پر پیش کر دیتے ہیں کہ ان سے ثابت ہوتا ہے اسلام میں خلیفہ کی حیثیت صرف ایک پریذیڈنٹ کی تھی اور جس طرح فرانس و امریکہ کے پریذیڈنٹ ہیں اسی طرح وہ بھی ہوا کرتے تھے اور مشورہ عوام پر چلنے پر مجبور تھے۔ہم اس بات سے قطعاً انکار نہیں کرتے کہ مشورہ لینے کا خلفاء کو ضرور حکم ہے اور وہ ایسا کرتے بھی تھے لیکن اس مشورہ کا پابند بنانے کے لئے انہیں کوئی حکم نہیں ملا اور قرآن وحدیث سے کہیں ثابت نہیں بلکہ خلفاء کا عمل اس کے خلاف ثابت ہے اور کئی ایسے امور ہوئے ہیں کہ جن کے متعلق خلفاء نے مشورہ تو لیا لیکن اس پر کار بند نہ ہوئے۔اور یہ کچھ ضروری نہیں کہ ایسے سب معاملات تاریخ نے محفوظ ہی رکھے ہوں بلکہ چند ایک اہم واقعات محفوظ رکھے باقی حوادث زمانہ میں مٹ گئے۔جیش اُسامہ کا واقعہ ایک عظیم الشان واقعہ جس میں حضرت ابو بکڑ نے کثرت رائے کی مخالفت کی ہے جیش اسامہ کا واقعہ ہے۔قریباً سب انصار اور بہت سے مہاجرین ( جیسا کہ احادیث و تواریخ سے ثابت ہے ) اسامہ کے سردارِ لشکر مقرر ہونے پر معترض تھے لیکن حضرت ابو بکر نے کسی کا ایک اعتراض نہیں سنا اور انہیں کو مقرر کیا۔اسی طرح اس لشکر کے بھیجنے کے متعلق بھی صحابہ کو اعتراض تھا مگر آپ نے کچھ پرواہ نہ کی اور یہ کہ کر ڈانٹ دیا کہ جس لشکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا ہے میں اُسے کبھی نہیں روکوں گا۔چنانچہ اشہر المشاہیر میں لکھا ہے کہ آپ نے لوگوں کے اس مشورہ کے جواب میں فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا بھی یقین ہو جائے کہ دشمن مجھ پر درندوں کی طرح حملہ کریں گے تب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لشکر جہاں آپ نے بھیجا ہے ضرور بھیجوں گا۔مرند به رتدین سے جنگ دوسرا عظیم الشان واقعہ مرتدین سے جنگ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب عرب کی اقوام باغی ہو گئیں۔