خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 9

خلافة على منهاج النبوة جلد اول اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت تھی۔خلافتِ اسلامیہ کا دستور العمل جب کہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت خلافت اسلامیہ قائم ہوئی ہے اور خود صحابہ کا دستور العمل فيها سهم اقتدا کے حکم سے قرآن شریف نے ہمارے لئے واجب الاطاعت قرار دیا ہے تو پھر کسی مسلمان کو کوئی حق نہیں کہ اس دستور العمل کے خلاف کوئی اور راہ نکالے اور اگر کوئی دوسری راہ نکالے گا تو کبھی کامیاب نہ ہو گا بلکہ خائب و خاسر ہی رہے گا۔برکت اس طریق خلافت میں ہے جس پر خلفائے راشدین کے زمانہ میں عمل ہوتا رہا یعنی ایک خلیفہ ہو۔اگر پارلیمنٹ اسلام میں ہوتی تو اللہ تعالیٰ ایک پارلیمنٹ کی خبر دیتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بجائے حضرت ابوبکر کی خلافت کے ایک پارلیمنٹ قائم کرتے اور بجائے حضرت عثمان کو خلافت پر قائم رہنے کی نصیحت کرنے کے خلافت سے دست بردار ہونے کی صلاح دیتے۔خلافت کیا چیز ہے؟ دنیا کی روحانی اور جسمانی اصلاح کے لئے رسول کریم عزم خلفاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی نیابت کرنی۔اور جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی جسمانی اور روحانی اصلاح کی طرف متوجہ رہتے تھے خلیفہ کا فرض ہے کہ مخلوق خدا کا نگران رہے۔ہاں بعض دفعہ خلافتِ روحانی عـلـى حَدَہ بھی قائم ہو جاتی ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے وہی ارشاد دوسرے خلفاء کیلئے بہ حیثیت خلیفہ ہونے کے واجب العمل ہوگا۔وہ حکم یہ ہے کہ فيمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا انْفَضُّوا مِن حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرَ لَهُمْ وَ شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فتوكل على الله إنّ اللهَ يُحِبُّ المُتون 2 اللہ تعالیٰ کے فضل سے تو ان لوگوں کے لئے نرم ہو گیا ہے ورنہ اگر تو لوگوں کو پراگندہ کر دینے والا سخت دل ہوتا تو لوگ تیرے پاس سے متفرق ہو جاتے پس تو ان کی غلطیوں کو معاف کیا کر اور خدا سے دعا مانگا کر