خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 231
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۱ جلد اول میں نے تمہیں خدا تعالیٰ سے علم پا کر بتا دیا ہے اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس نے اس طرح تمام صحیح واقعات کو یکجا جمع کر کے تمہارے سامنے رکھ دیا ہے جن سے معلوم ہو جائے کہ پہلے خلیفوں کی خلافتیں اس طرح تباہ ہوئی تھیں۔پس تم میری نصیحتوں کو یا درکھو۔تم پر خدا کے بڑے فضل ہیں اور تم اس کی برگزیدہ جماعت ہو اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے کہ اپنے پیش روؤں سے نصیحت پکڑو۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں لوگوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ پہلی جماعتیں جو ہلاک ہوئی ہیں تم ان سے کیوں سبق نہیں لیتے۔تم بھی گزشتہ واقعات سے سبق لو۔میں نے جو واقعات بتائے ہیں وہ بڑی زبر دست اور معتبر تاریخوں کے واقعات ہیں جو بڑی تلاش اور کوشش سے جمع کئے گئے ہیں اور ان کا تلاش کرنا میرا فرض تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے جب کہ مجھے خلافت کے منصب پر کھڑا کیا ہے تو مجھ پر واجب تھا کہ دیکھوں پہلے خلیفوں کے وقت کیا ہوا تھا اس کے لئے میں نے نہایت کوشش کے ساتھ حالات کو جمع کیا ہے۔اس سے پہلے کسی نے ان واقعات کو اس طرح ترتیب نہیں دیا۔پس آپ لوگ ان باتوں کو سمجھ کر ہوشیار ہو جائیں اور تیار رہیں۔فتنے ہوں گے اور بڑے سخت ہوں گے ان کو دور کرنا تمہارا کام ہے۔خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے اور تمہارے ساتھ ہو اور میری بھی مدد کرے اور مجھ سے بعد آنے والے خلیفوں کی بھی کرے اور خاص طور پر کرے کیونکہ اُن کی مشکلات مجھ سے بہت بڑھ کر اور بہت زیادہ ہوں گی۔دوست کم ہوں گے اور دشمن زیادہ۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ بہت کم ہوں گے۔مجھے حضرت علی کی یہ بات یاد کر کے بہت ہی درد پیدا ہوتا ہے۔اُن کو کسی نے کہا کہ حضرت ابو بکر اور عمر کے عہد میں تو ایسے فتنے اور فساد نہ ہوتے تھے جیسے آپ کے وقت میں ہو رہے ہیں۔آپ نے اسے جواب دیا کہ اوکم بخت ! حضرت ابو بکر اور عمر کے ماتحت میرے جیسے شخص تھے اور میرے ماتحت تیرے جیسے لوگ ہیں۔غرض جوں جوں دن گزرتے جائیں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صُحبت یافتہ لوگ کم رہ جائیں گے اور آپ کے تیار کردہ انسان قلیل ہو جائیں گے۔پس قابل رحم حالت ہوگی اُس خلیفہ کی کہ جس کے ماتحت ایسے لوگ ہوں گے۔خدا تعالیٰ کا رحم اور فضل اُس کے شامل ہو اور اُس کی برکات اور اُس کی نصرت اُس کے لئے