خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 230

خلافة على منهاج النبوة ۲۳۰ جلد اول آتے ، حضرت عثمان کی خدمت میں بیٹھتے ، آپ کے حالات اور خیالات سے واقف ہوتے تو کبھی ایسا نہ ہوتا جیسا کہ ہوا۔میں نے ان حالات کو بہت مختصر کر دیا ہے ورنہ یہ اتنے لمبے اور ایسے دردناک ہیں کہ سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس یا درکھو کہ یہ وہ فتنہ تھا جس نے مسلمانوں کے ۷۲ فرقے نہیں بلکہ ۷۲ ہزار فرقے بنا دیئے۔مگر اس کی وجہ وہی ہے جو میں نے کئی دفعہ بتائی ہے کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔ان باتوں کو خوب ذہن نشین کر لو کیونکہ تمہاری جماعت میں بھی ایسے فتنے ہوں گے جن کا علاج یہی ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور صحیح صحیح حالات سے واقفیت پیدا کرو۔میں نہیں جانتا کہ یہ فتنے کس زمانہ میں ہوں گے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہوں گے ضرور لیکن اگر تم قادیان - آؤ گے اور بار بار آؤ گے تو ان فتنوں کے دور کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔پس تم اس بات کو خوب یاد رکھو اور اپنی نسلوں در نسلوں کو یاد کراؤ تا کہ اس زمانہ میں کامیاب ہو جاؤ۔صحابہ کی درد ناک تاریخ سے فائدہ اُٹھاؤ اور وہ باتیں جو ان کے لئے مشکلات کا موجب ہوئی ہیں ان کے انسداد کی کوشش کرو۔فتنہ اور فساد پھیلانے والوں پر کبھی حسن ظنی نہ کرنا اور ان کی کسی بات پر تحقیق کئے بغیر اعتبار نہ کر لینا۔کیا اس وقت تم نے ایسے لوگوں سے نقصان نہیں اُٹھایا ؟ ضرور اُٹھایا ہے پس اب ہوشیار ہو جاؤ اور جہاں کوئی فتنہ دیکھو فوراً اس کا علاج کرو۔تو بہ اور استغفار پر بہت زور دینا۔دیکھو اس وقت بھی کس طرح دھو کے دیئے جاتے ہیں۔ہمارے مخالفین میں سے ایک سرکردہ کا خط میر حامد شاہ صاحب کے پاس موجود ہے جس میں وہ انہیں لکھتے ہیں کہ نور دین اسلام کا خطرناک دشمن ہے اور انجمن پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔شاہ صاحب تو چونکہ قادیان آنے جانے والے تھے اس لئے ان پر اس خط کا کچھ اثر نہ ہوا لیکن اگر کوئی اور ہوتا جو قادیان نہ آیا کرتا تو وہ ضرور حضرت مولوی صاحب کے متعلق بدظنی کرتا اور کہتا کہ قادیان میں واقعی اندھیر پڑا ہوا ہے۔اسی طرح اور بہت سی باتیں ان لوگوں نے پھیلائی ہیں لیکن اس وقت تک خدا کے فضل سے انہیں کچھ کا میابی نہیں ہوئی۔لیکن تم اس بات کے ذمہ دار ہو کہ شریر اور فتنہ انگیز لوگوں کو گرید گرید کر نکالو اور ان کی شرارتوں کے روکنے کا انتظام کرو۔