خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 217
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۷ جلد اول لئے آؤ۔لیکن جب حضرت علیؓ کے سامنے بعض ان لوگوں نے جو اس فریب میں شامل نہ تھے خطوں کا ذکر کر دیا اور آپ نے انکار کیا تو پھر ان شریروں نے جو اس فریب کے مرتکب تھے یہ بہانہ بنایا کہ گویا حضرت علی نَعُوذُ باللہ پہلے خط لکھ کر اب خوف کے مارے ان سے انکار کرتے ہیں حالانکہ تمام واقعات ان کے اس دعوئی کی صریح تردید کرتے ہیں اور حضرت علیؓ کا رویہ شروع سے بالکل پاک نظر آتا ہے لیکن یہ سب فساد اسی بات کا نتیجہ تھا کہ اُن مفسدوں کے پھندے میں آئے ہوئے لوگ حضرت علیؓ سے بھی واقف نہ تھے۔الغرض حضرت علیؓ کے پاس سے نا امید ہو کر یہ لوگ حضرت عثمان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے یہ خط لکھا۔آپ نے فرمایا کہ شریعت اسلام کے مطابق دوطریق ہیں یا تو یہ کہ دو گواہ تم پیش کرو کہ یہ کام میرا ہے۔یا یہ کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ تحریر ہرگز میری نہیں اور نہ میں نے کسی سے لکھوائی اور نہ مجھے اس کا علم ہے اور تم جانتے ہو کہ لوگ جھوٹے خط لکھ لیتے ہیں اور مہبروں کی بھی نقلیں بنا لیتے ہیں مگر اس بات پر بھی ان لوگوں نے شرارت نہ چھوڑی اور اپنی ضد پر قائم رہے۔اس واقعہ سے بھی ہمیں یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ مدینہ کے لوگ ان کے ساتھ شامل نہ تھے کیونکہ اگر مدینہ میں سے بعض لوگ ان کی شرارت میں حصہ دار ہوتے تو ان کے لئے دو جھوٹے گواہ بنا لینے کچھ مشکل نہ تھے لیکن ان کا اس بات سے عاجز آ جانا بتا تا ہے کہ مدینہ میں سے دو آدمی بھی ان کے ساتھ نہ تھے (سوائے ان تین آدمیوں کے جن کا ذکر پہلے کر چکا ہوں مگر ان میں سے محمد بن ابی بکر تو ان لوگوں کے ساتھ تھے۔مدینہ میں نہ تھے اور صرف عمار اور محمد بن ابی حذیفہ مدینہ میں تھے لیکن یہ دونوں بھی نیک آدمی تھے اور صرف ان کی فریب دینے والی باتوں کے دھوکے میں آئے ہوئے تھے ) اور یہ لوگ اپنے میں سے گواہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ یہ لوگ مدینہ میں موجود نہ تھے ان کی گواہی قابل قبول نہ تھی۔گو ہر طرح ان لوگوں کو ذلت پہنچی لیکن اُنہوں نے اپنی کا رروائی کو ترک نہ کیا اور برابر مدینہ کا محاصرہ کئے پڑے رہے۔شروع شروع میں تو حضرت عثمان کو بھی اور باقی اہلِ مدینہ کو بھی مسجد میں نماز کے لئے آنے کی اجازت اُنہوں نے دے دی تھی اور حضرت عثمان بڑی