خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 218
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۸ جلد اول دلیری سے ان لوگوں میں آ کر نماز پڑھاتے۔لیکن باقی اوقات میں ان لوگوں کی جماعتیں مدینہ کی گلیوں میں پھرتی رہتیں اور اہل مدینہ کو آپس میں کہیں جمع ہونے نہ دیتیں تا کہ وہ ان پر حملہ آور نہ ہوں۔جب جمعہ کا دن آیا تو حضرت عثمان جمعہ کی نماز کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا کہ اے دشمنانِ اسلام ! مدینہ کے لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری نسبت پیشگوئی کی ہے اور تم پر لعنت کی ہے پس تم نیکیاں کر کے اپنی بدیوں کو مٹاؤ۔کیونکہ بدیوں کو سوائے نیکیوں کے اور کوئی چیز نہیں مٹاتی۔اس پر محمد بن سلمہ" کھڑے ہوئے اور فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں لیکن حکیم بن جبلہ (وہی چور جس کا پہلے ذکر آ چکا ہے ) نے ان کو بٹھا دیا۔پھر زید بن ثابت کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا مجھے قرآن کریم دو ( ان کا منشاء بھی ان لوگوں کے خلاف گواہی دینے کا تھا ) مگر باغیوں میں سے ایک شخص نے اُن کو بھی بٹھا دیا اور پھر اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو صحابہؓ اسی طرح گواہی دے دے کر ہمارا ملعون اور خلاف قرآن امور پر عامل ہونا ظاہر کر دیں پتھر مار مار کر صحابہ کو مسجد سے باہر نکال دیا اور اس کے بعد حضرت عثمان پر پتھر پھینکنے شروع کئے جن کے صدمہ سے وہ بیہوش ہوکر زمین پر جا پڑے۔جس پر یہ ا پر بعض لوگوں نے آپ کو اُٹھا کر آپ کے گھر پہنچا دیا۔جب صحابہ کو حضرت عثمان کا یہ حال معلوم ہوا تو باوجود اس بے بسی کی حالت کے ان میں سے ایک جماعت لڑنے کے لئے تیار ہوگئی۔جن میں ابو ہریرہ ، زید بن ثابت کا تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امام حسن بھی تھے۔جب حضرت عثمان کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے اُن کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ جانے دو اور ان لوگوں سے جنگ نہ کرو۔چنانچہ بادل نخواستہ یہ لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے اور حضرت علی ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے آپ کے گھر پر جا کر اس واقعہ کا بہت افسوس کیا۔اس واقعہ کے بعد بھی حضرت عثمان نماز پڑھاتے رہے لیکن محاصرہ کے تیسویں دن مفسدوں نے آپ کو نماز کے لئے نکلنے سے بھی روک دیا اور اہلِ مدینہ کو بھی دق کرنا شروع کیا اور جو شخص ان کی خواہشات کے پورا کرنے میں مانع ہوتا اُسے قتل کر دیتے اور مدینہ کے لوگوں میں کو ئی شخص بغیر تلوار لگائے کے باہر نہ نکل سکتا کہ کہیں اس کو یہ لوگ ایذاء نہ پہنچا ئیں۔انہی