خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 216

خلافة على منهاج النبوة ۲۱۶ جلد اول کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط نکلا جو گورنر مصر کے نام تھا اور جس میں ہم سب کے قتل کا فتویٰ تھا اس لئے ہم واپس آگئے ہیں کہ یہ دھوکا ہم سے کیوں کیا گیا ہے۔ان صحابہ نے ان سے کہا کہ تم یہ تو ہمیں بتاؤ کہ خط تو مصریوں کو ملا تھا اور تم تینوں جماعتوں (یعنی کوفیوں، بصریوں اور مصریوں) کے راستے الگ الگ تھے اور تم کئی منزلیں ایک دوسرے سے دُور تھے پھر ایک ہی وقت میں اس قدر جلد تینوں جماعتیں واپس مدینہ میں کیونکر آگئیں اور باقی جماعتوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ مصریوں کو اس مضمون کا کوئی خط ملا ہے یہ تو صریح فریب ہے جو تم لوگوں نے بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ فریب سمجھو یا درست سمجھو ہمیں عثمان کی خلافت منظور نہیں وہ خلافت سے الگ ہو جائیں۔اس کے بعد مصری حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اب تو اس شخص کا قتل جائز ہو گیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں اور عثمان کا مقابلہ کریں۔حضرت علیؓ نے بھی ان کو یہی جواب دیا کہ تم جو واقعہ سناتے ہو وہ بالکل بناوٹی ہے کیونکہ اگر تمہارے ساتھ ایسا واقعہ گزرا تھا تو بصری اور کو فی کس طرح تمہارے ساتھ ہی مدینہ میں آ گئے۔ان کو اس واقعہ کا کس طرح علم ہوا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے پہلے سے ہی منصوبہ بنا رکھا تھا چلے جاؤ خدا تعالیٰ تمہارا بُرا کرے میں تمہارے ساتھ نہیں مل سکتا۔( مصری لوگ خط ملنے کا جو وقت بتاتے تھے اس میں اور ان کے مدینہ میں واپس آنے کے درمیان اس قدر قلیل وقت تھا کہ اس عرصہ میں بصریوں اور کو فیوں کو خبر مل کر وہ واپس مدینہ میں نہیں آ سکتے تھے پس صحابہؓ نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ مدینہ سے جاتے وقت پہلے سے ہی منصوبہ کر گئے تھے کہ فلاں دن مدینہ پہنچ جاؤ اور خط کا واقعہ صرف ایک فریب تھا ) جب حضرت علی کا یہ جواب ان باغیوں نے سنا تو ان میں سے بعض بول اُٹھے کہ اگر یہ بات ہے تو آپ ہمیں پہلے خفیہ خط کیوں لکھا کرتے تھے ؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کوئی خط تم لوگوں کو نہیں لکھا۔آپ کا یہ جواب سن کر وہ آپس میں کہنے لگے کہ کیا اس شخص کی خاطر تم لوگ لڑتے پھرتے ہو (یعنی پہلے تو اس نے ہمیں خط لکھ کر اُکسایا اور اب اپنی جان بچاتا ہے )۔اس گفتگو سے یہ بات صاف معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ باغی جھوٹے خط بنانے کے پکے مشاق تھے اور لوگوں کو حضرت علیؓ کی طرف سے خط بنا کر سناتے رہتے تھے کہ ہماری مدد کے