خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 206

خلافة على منهاج النبوة جلد اول کے اصل الفاظ یہ ہیں جو طبری نے لکھے ہیں وَاظْهِرُوا الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهَى عَنِ الْمُنْكَرِ تَسْتَمِيلُوا النَّاسَ وَادْعُوهُمُ إلى هذا الأمر فَبَكَ دُعَاتَهُ " یعنی اس نے نصیحت کی کہ ظاہر میں تو تمہارا کام لوگوں کو نیک باتوں کا وعظ کرنا اور بُری باتوں سے روکنا ہو تا کہ اس ذریعہ سے لوگوں کے دل تمہاری طرف مائل ہو جائیں کہ کیا عمدہ کام کرتے ہیں لیکن اصل میں تمہاری غرض ان وعظوں سے یہ ہو کہ اس طرح لوگوں کے دل جب مائل ہو جائیں تو انہیں اپنا ہم خیال بناؤ۔یہ نصیحت کر کے اس نے اپنے واعظ چاروں طرف پھیلا دیئے۔غرض ان لوگوں نے ایسا طریق اختیار کیا کہ سادہ لوح لوگوں کے لئے بات کا سمجھنا بالکل مشکل ہو گیا اور فتنہ بڑے زور سے ترقی کرنے لگا اور عام طور پر مسلمان خلافت عثمان سے بدظن ہو گئے اور ہر جگہ یہی ذکر لوگوں کی زبانوں پر رہنے لگا کہ ہم تو بڑے مزے میں ہیں باقی علاقوں کے لوگ بڑے بڑے دکھوں میں ہیں۔بصرہ کے لوگ خیال کرتے کہ کوفہ اور مصر کے لوگ سخت تکلیف میں ہیں اور کوفہ کے لوگ سمجھتے کہ بصرہ اور مصر کے لوگ سخت دُکھ میں ہیں حالانکہ اگر وہ لوگ آپس میں ملتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ شریروں کی شرارت ہے ورنہ ہر جگہ امن و امان ہے۔ہر جماعت دوسری جماعت کو مظلوم قرار دیتی تھی حالانکہ مظلوم کوئی بھی نہ تھا اور ان سازشیوں نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ اپنے ہم خیالوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیتے تھے تا راز ظاہر نہ ہو جائے۔آخر یہ فساد بڑھتے بڑھتے خیالات سے عمل کی طرف کو ٹا اور لوگوں نے یہ تجویز کی کہ ان گورنروں کو موقوف کروایا جائے جن کو حضرت عثمان نے مقرر کیا ہے چنانچہ سب سے پہلے حضرت عثمان کے خلاف کوفہ کے لوگوں کو اُکسایا گیا اور وہاں فساد ہو گیا۔لیکن بعض بڑے آدمیوں کے سمجھانے سے فساد تو دب گیا مگر فساد کے بانی مبانی نے فوراً ایک آدمی کو خط دے کر حمص روا نہ کیا کہ وہاں جو جلا وطن تھے ان کو بلا لائے اور لکھا کہ جس حالت میں ہو فوراً چلے آؤ کہ مصری ہم سے مل گئے ہیں۔وہ خط جب ان کو ملا تو باقیوں نے اُسے رڈ کر دیا لیکن مالک بن اشتر بگڑ کر فوراً کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا اور تمام راستہ میں لوگوں کو حضرت عثمان اور سعید بن العاص کے خلاف اُکساتا گیا اور ان کو سنا تا کہ میں مدینہ سے آ رہا ہوں۔راستہ