خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 207
خلافة على منهاج النبوة ۲۰۷ جلد اول میں سعید بن العاص سے ملا تھا وہ تمہاری عورتوں کی عصمت دری کرنا چاہتا ہے اور فخر کرتا ہے کہ مجھے اس کام سے کون روک سکتا ہے۔اسی طرح حضرت عثمان کی عیب جوئی کرتا۔جولوگ حضرت عثمان اور دیگر صحابہ کے واقف نہ تھے اور مدینہ آنا جانا اُن کا کم تھا وہ دھو کے میں آتے جاتے تھے اور تمام ملک میں آگ بھڑکتی جاتی تھی عقلمند اور واقف لوگ سمجھاتے لیکن جوش میں کون کسی کی سنتا ہے۔اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف لوگ قسم قسم کے جھوٹ مشہور کرتے تھے اور ایسے احمدی بھی جو قادیان کم آتے تھے ان کے دھوکے میں آ جاتے تھے۔اب بھی ہمارے مخالف میری نسبت اور قادیان کے دوسرے دوستوں کی نسبت جھوٹی باتیں مشہور کرتے ہیں کہ سب اموال پر انہوں نے تصرف کر لیا ہے اور حضرت صاحب کو حقیقی نبی ( جس کے معنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تشریعی نبی کئے ہیں ) مانتے ہیں اور نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے ان میں سے بعض ان کے فریب میں آجاتے ہیں۔ایک رئیس نے مسجد کوفہ میں لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک تقریر کی اور سمجھایا لیکن دوسرے لوگوں نے اُنہیں کہا کہ اب فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے اب اس کا علاج سوائے تلوار کے کچھ نہیں۔اس ناشکری کی سزا اب ان کو یہی ملے گی کہ یہ زمانہ بدل جائے گا اور بعد میں یہ لوگ خلافت کے لوٹنے کی تمنا کریں گے لیکن ان کی آرزو پوری نہ ہو گی۔پھر سعید بن العاص اُن کو سمجھانے گئے اُنہوں نے جواب دیا کہ ہم تجھ سے راضی نہیں تیری جگہ پر اور گورنر طلب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس چھوٹی سی بات کے لئے اس قدر شور کیوں ہے ایک آدمی کو خلیفہ کی خدمت میں بھیج دو کہ ہمیں یہ گورنر منظور نہیں وہ اور بھیج دیں گے۔اس بات کیلئے اس قد را اجتماع کیوں ہے؟ یہ بات کہہ کر سعید نے اپنا اونٹ دوڑایا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت عثمان کو سب حالات سے آگاہ کیا۔آپ نے فرمایا کسے گورنر بنانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ابوموسیٰ اشعری کو۔فرمایا ہم نے ان کو گورنر مقرر کیا اور ہم ان لوگوں کے پاس کوئی معقول عذر نہ رہنے دیں گے۔جب حضرت ابو موسیٰ اشعری کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے سب لوگوں