خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 205
خلافة على منهاج النبوة ۲۰۵ جلد اوّل مارا گیا اور بصرہ کی طرف جلا وطن کر دیا گیا۔وہاں اس نے فساد ڈلوانا شروع کیا اور تفرقہ اور فساد ڈالنے کے لئے یہ صورت اختیار کی کہ شرفاء کے خلاف موقع پا کر جھوٹ منسوب کر دیتا اور اس طرح تفرقہ ڈلواتا۔غرض یہ تین گروہ اسلام کی تباہی میں کوشاں تھے اور تینوں گروہ ایسے تھے جو دین اسلام سے بے خبر اور اپنی وجاہت کے دلدادہ تھے۔اسلام کی ناواقفی کی وجہ سے اپنی عقل سے مسائل ایجاد کر کے مسلمانوں کے اعتقاد بگاڑتے تھے اور چونکہ حکومت اسلامیہ ان کے اس فعل میں روک تھی اور وہ گھلے بندوں اسلام کو بازیچہ اطفال نہیں بنا سکتے تھے اس لئے حکومت کے مٹانے کے درپے ہو گئے تھے۔چنانچہ سب سے پہلے عبد اللہ بن سبا نے مصر میں بیٹھ کر با قاعدہ سازش شروع کر دی اور تمام اسلامی علاقوں میں اپنے ہم خیال پیدا کر کے ان کے ساتھ خط و کتابت شروع کی اور لوگوں کو بھڑ کانے کے لئے یہ راہ نکالی کہ حضرت عثمان کے عمال کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا نا شروع کیا اور چونکہ لوگ اپنی آنکھوں دیکھی بات کے متعلق دھوکا نہیں کھا سکتے اس لئے یہ تجویز کی کہ ہر ایک جگہ کے لوگ اپنے علاقہ میں اپنے گورنر کے عیب نہ مشہور کر یں بلکہ دوسرے علاقہ کے لوگوں کو اس کے مظالم لکھ کر بھیجیں۔وہاں کے فتنہ پر دازان کو اپنے گورنر کے عیب لکھ کر بھیجیں اس طرح لوگوں پر ان کا فریب نہ کھلے گا۔چنانچہ بصرہ کے لوگ مصر والوں کی طرف لکھ کر بھیجتے کہ یہاں کا گورنر بڑا ظالم ہے اور اس اس طرح مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے اور مصر کے لوگ یہ خطوط لوگوں کو پڑھ کر سناتے اور کہتے کہ دیکھو تمہارے بصرہ کے بھائی اس دکھ میں ہیں اور ان کی فریاد کوئی نہیں سنتا۔اسی طرح مصر کے متفنی کسی اور صوبہ کے دوستوں کو مصر کے گورنر کے ظلم لکھ کر بھیجتے اور وہ لوگوں کو سنا کر خلیفہ کے خلاف اُکساتے کہ اس نے ایسے ظالم گورنر مقرر کر رکھے ہیں جن کو رعایا کی کوئی پرواہ نہیں۔علاوہ ازیں لوگوں کو بھڑ کانے کے لئے چونکہ اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ ان کے دل ان کی طرف جھک جائیں اس کے لئے عبداللہ بن سبا نے یہ تجویز کی کہ عام طور پر وعظ ولیکچر دیتے پھرو تا کہ لوگ تمہاری طرف مائل ہو جائیں اور بڑا خادم اسلام سمجھیں۔چنانچہ اس