خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 125

خلافة على منهاج النبوة ۱۲۵ جلد اول علیہ السلام کی وفات سے بھی ایک سال اور چند ماہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فتنہ خلافت کے متعلق خبر دے دی تھی اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب خلافت کا سوال ہی کسی کے ذہن میں نہیں آ سکتا تھا اور انجمن کا کاروبار بھی ابھی نہیں چلا تھا۔بہت تھوڑی مدت اس کے قیام کو ہوئی تھی اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن یہ نوزائیدہ انجمن مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین ہونے کا دعوی کرے گی بلکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ احمدیوں کے دماغ میں وہم کے طور پر بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ حضرت صاحب فوت ہوں گے بلکہ ہر ایک شخص با وجود اشاعت وصیت کے غالباً یہ خیال کرتا تھا کہ یہ واقعہ ہماری وفات کے بعد ہی ہوگا اور اس میں شک ہی کیا ہے کہ عاشق اپنے معشوق کی موت کا وہم بھی نہیں کر سکتا اور یہی حال جماعت احمدیہ کا تھا۔پس ایسے وقت میں خلافت کے جھگڑے کا اس وضاحت سے بتا دینا اور اس خبر کا حرف بہ حرف پورا ہونا ایک ایسا ز بر دست نشان ہے کہ جس کے بعد متقی انسان کبھی بھی خلافت کا انکار نہیں کر سکتا۔کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے کہ ایک واقعہ سے دو سال پہلے اس کی خبر دے اور ایسے حالات میں دے کہ جب کوئی سامان موجود نہ ہو اور وہ خبر دوسال بعد بالکل حرف بہ حرف پوری ہوا اور خبر بھی ایسی ہو جو ایک قوم کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔دیکھو ان دونوں رویا سے کس طرح ثابت ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ ہوگا جو بظا ہر خطرناک معلوم ہوگا لیکن در حقیقت نہایت نیک نتائج کا پیدا کرنے والا ہو گا چنانچہ خلافت کا جھگڑا جو ۱۹۰۹ء میں بر پا ہوا گو نہایت خطرناک معلوم ہوتا تھا مگر اس کا یہ عظیم الشان فائدہ ہوا کہ آئندہ کے لئے جماعت کو خلافت کی حقیقت معلوم ہوگئی اور حضرت خلیفہ اسیح کو اس بات کا علم ہو گیا کہ کچھ لوگ خلافت کے منکر ہیں اور آپ اپنی زندگی میں برابر اس امر پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور خلافت جماعت کے قیام کے لئے ضروری ہے اور ان نصائح سے گو بانیانِ فساد کو فائدہ نہ ہوا ہو لیکن اس وقت سینکڑوں ایسے آدمی ہیں جن کو ان وعظوں سے فائدہ ہوا اور وہ اس وقت ٹھوکر سے اس لئے بچ گئے کہ اُنہوں نے مُخْتَلَفٌ فِيهَا مسائل کے متعلق بہت کچھ خلیفہ اول سے سنا ہوا تھا۔پھر دوسری رؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے خلاف کچھ لوگوں