خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 124
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۴ جلد اول بھی بجا لاؤں تھوڑا ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لئے جو صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ان شہادتوں کو بیان کر دوں جو اللہ تعالیٰ نے ان تمام فتن کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ظاہر ہوئے میرے لئے ظاہر فرمائیں جن سے میرے دل کو تسلی اور تسکین ہوئی کہ جو راہ میں اختیار کر رہا ہوں وہی درست ہے اور بعض آئندہ کی خبر میں ایسی بتائیں جن کے پورا ہونے سے میرا ایمان تازہ ہوا۔خلافت کے متعلق جس قدر خلافت کے جھگڑا کے متعلق آسمانی شہادت جھگڑے ہیں ان کی بنیا داسی مسئلہ پر ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ ہونا چاہیے یا نہیں۔اگر یہ فیصلہ ہو جائے تو اصول مباحث سب کے ہو جاتے ہیں اور صرف ذاتیات کا پردہ رہ جاتا ہے پس سب سے پہلے میں اسی کے متعلق ایک آسمانی شہادت پیش کرتا ہوں جس کے بعد میں نہیں خیال کرتا کہ کوئی سعید انسان خلافت کا انکار کرے۔۱۸ مارچ ۱۹۰۷ء کی بات ہے کہ رات کے وقت رؤیا میں مجھے ایک کاپی الہاموں کی دکھائی گئی اس کی نسبت کسی نے کہا کہ یہ حضرت صاحب کے الہاموں کی کاپی ہے اور اس میں موٹا لکھا ہوا ہے عَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ یعنی کچھ بعید نہیں کہ تم ایک بات کو نا پسند کرو لیکن وہ تمہارے لئے خیر کا موجب ہو۔اس کے بعد نظارہ بدل گیا اور دیکھا کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے برخلاف لوگوں نے ہنگامہ کیا ہے اور میں ہنگامہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کے ساتھ باتیں کرتا ہوں۔باتیں کرتے کرتے اس سے بھاگ کر الگ ہو گیا ہوں اور یہ کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو مجھ سے شہزادہ خفا ہو جائے گا۔اتنے میں ایک شخص سفید رنگ آیا ہے اور اس نے مجھے کہا کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے تین درجے ہیں۔ایک وہ جو صرف نماز پڑھ لیں یہ لوگ بھی اچھے ہیں۔دوسرے وہ جو مسجد کی انجمن میں داخل ہو جا ئیں۔تیسرا متولی۔اس کے ساتھ ایک اور خواب بھی دیکھی لیکن اس کے یہاں بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ان دونوں رویا پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود