خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 126
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۶ جلد اول نے بغاوت کی ہے۔اب مسجد کی تعبیر جماعت لکھی ہے۔پس اس رؤیا سے معلوم ہوا کہ ایک جماعت کا ایک متولی ہوگا۔( متولی اور خلیفہ بالکل ہم معنی الفاظ ہیں ) اور اس کے خلاف کچھ لوگ بغاوت کریں گے اور ان میں سے کوئی مجھے بھی ورغلانے کی کوشش کرے گا مگر میں ان کے پھندے میں نہیں آؤں گا اور ان کو صاف کہہ دوں گا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو شہزادہ مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔اور جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات دیکھتے ہیں تو آپ کا نام شہزادہ بھی رکھا گیا ہے۔پس اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو لوگ ان باغیوں کے ساتھ شامل ہوں گے ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ناراض ہوں گے ( یعنی ان کا یہ فعل مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف ہوگا ) یہ تو اس فتنہ کی کیفیت ہے جو ہونے والا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ یہ فتنہ کون کرے گا۔اور وہ اس طرح کہ اس امر سے کہ متولی کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے شہزادہ ناراض ہو جائے گا یہ بتایا گیا ہے کہ متولی حق پر ہے اور باغی ناحق پر اور پھر یہ بتا کر کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والے دوسرے دو گروہوں یعنی عام نمازیوں اور انجمن والوں میں سے عام نمازی اچھے ہیں ) بتا دیا کہ یہ فتنہ عام جماعت کی طرف سے نہ ہو گا۔اب ایک ہی گروہ رہ گیا یعنی انجمن پس وہی باغی ہوئی۔لیکن میری علیحدگی سے یہ بتا دیا کہ میں باوجود ممبرانجمن ہونے کے ان فتنہ پردازوں سے الگ رہوں گا۔یہ رویا ایسی کھلی اور صاف ہے کہ جس قدر غور کرو اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور خلافت کی صداقت کا ثبوت ایسے کھلے طور پر ملتا ہے کہ کوئی شقی ہی انکار کرے تو کرے۔اس رؤیا کے گواہ شاید کوئی شخص کہہ دے کہ ہم نے مانا کہ یہ رویا نہایت واضح ہے لیکن اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ واقعہ میں آپ نے کوئی ایسی رؤیا دیکھی بھی ہے یا نہیں اور جب تک اس بات کا ثبوت نہ ملے تو اس رؤیا کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہو سکتی اور اس کا کہنا بالکل بجا ہوگا اس لئے میں اپنی صداقت کے لئے گواہ کے طور پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کرتا ہوں۔شاید بعض لوگوں کو تعجب ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فوت ہو چکے ہیں آپ کیونکر اس دنیا میں واپس آ کر میری