خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 119

خلافة على منهاج النبوة 119 جلد اول علی کرم اللہ وجہہ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے سو اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضی ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گر وہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تو ڈر سے مجھے فرماتے ہیں کہ يَا عَلِيُّ دَعْهُمْ وَأَنْصَارَهُمْ وَزِرَاعَتَهُمْ يعنى اے علی ! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے۔اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے۔اس رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا کہ لوگ تمہاری خلافت کا انکار کریں گے اور فتنہ ڈالیں گے لیکن صبر کرنا ہوگا۔آپ نے اس رؤیا کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ لوگ میرا انکار کریں گے۔لیکن خدا تعالیٰ کی باتوں کے کئی معنی ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے الہام شَاتَانِ تُذْبَحَانِ ها کے ۱۵ پہلے اور معنی کئے تھے اور پھر اسے سید عبداللطیف صاحب شہید اور مولوی عبد الرحمن صاحب پر چسپاں فرمایا اور دونوں ہی معنی درست تھے۔تو اس رؤیا کے ایک معنی تو یہ بھی ہیں کہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کریں گے۔لیکن اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے بعد جو خلافت ہو گی اس کا انکار ایک جماعت کرے گی اور فتنہ ڈالے گی۔پس اگر کوئی جماعت خلافت کی منکر نہ ہوتی تو یہ رویا کس طرح پوری ہوتی۔(۲) لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کا انکار کرنے والے بڑے آدمی ہیں۔ہم بھی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے لوگوں کی نسبت ہی لکھتے ہیں کہ ”پس جو شخص در حقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح