خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 118

خلافة على منهاج النبوة ۱۱۸ جلد اول میں اب ایک اور بات بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو منافقت کی ایک ضروری بات صلح کرنی چاہتے ہیں وہ یاد رکھی کہ یہ بھی نہیں ہو سکے گی کیونکہ پچھلے دنوں میں جو کچھ ہوا ہے وہ منشاء الہی کے مطابق ہوا ہے۔ہم میں شامل ہونے والے تو آئیں گے اور آتے ہی رہیں گے اور ان کو وہی رُتبہ اور درجہ دیا جائے گا جو اُن کا پہلے تھا مگر جو ہونا تھا وہ ہو گیا اس کو روکنا کسی انسان کی طاقت اور قدرت میں نہیں ہے۔یہ جو فتنہ پڑا ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے قبل از وقت خبر دے دی تھی۔کمزور دل کے لوگ کہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا ، احمد یہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ سے سلسلہ ٹوٹتا نہیں بلکہ بنتا ہے مبارک ہے وہ انسان جو اس نکتہ کو سمجھے۔اللہ تعالیٰ کے پیارے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ انہیں ایک زخم لگاتا ہے تو ان کی جماعت اور بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔کیا تم نے کبھی باغبان کو دیکھا نہیں جب وہ کسی درخت کی شاخیں کاٹتا ہے تو اور زیادہ شاخیں اُس کی نکل آتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے جو اس سلسلہ احمدیہ کے درخت کی کچھ شاخیں کاٹی ہیں تو اس لئے نہیں کہ یہ درخت سوکھ جائے بلکہ اس لئے کہ اور زیادہ بڑھے۔سو یہ مت سمجھو کہ اس فتنہ کی وجہ سے لوگ سمجھیں گے کہ یہ سلسلہ جھوٹا ہے کیونکہ یہ تو اس کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں۔اگر کوئی نبی بیمار ہو جائے اور اس کے مخالفین خوش ہوں کہ یہ اب فوت ہو جائے گا لیکن وہ انہیں اپنا الہام نکال کر دکھا دے کہ میرا بیمار ہونا تو میری صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مجھے پہلے بتایا گیا تھا کہ تو بیمار ہوگا تو اس بیماری سے اس نبی کی صداقت پر کوئی دھبہ نہیں لگتا بلکہ اس کی صداقت اور ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح جب اس فتنہ کے لئے پہلے خبریں دی گئی تھیں تو یہ ہماری ترقی میں کوئی روک نہیں ہو سکتا بلکہ اور زیادہ ترقی کے لئے اس فتنہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دلائل و براہین کی تلواریں دے دی ہیں تا کہ نہ ماننے والوں کو دلائل کے ساتھ قتل کرتے پھریں۔فتنہ کا ہونا ضروری تھا (۱) دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کو اپنا ایک رؤیا بیان فرمایا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت