خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 120
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۰ جلد اول ہے۔66 ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھو کر کھاتے ہیں اور بعض بد قسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بد گمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے۔مگر اِذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں۔کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔پس مقام خوف ہے۔اگر یہ بات جو روز ازل سے مقدر ہو چکی تھی اور جس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وقتا فوقتا دی جاتی تھی اُس وقت اس طرح پوری نہ ہوتی کہ جو بڑے تھے وہ چھوٹے نہ کئے جاتے اور وہ جماعت جس کو دبایا جاتا تھا اس کو بڑھایا نہ جاتا تو کس طرح اس کی صداقت ثابت ہوتی۔(۳) پھر اگر جماعت احمدیہ کے دو گروہ نہ ہوتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کس طرح پورا ہوتا کہ ”خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کا ہوگا۔پس یہ پھوٹ کا ثمرہ کل یعنی جماعت کے دو گروہ ہو جائیں گے اور ان میں سے خدا ایک کے ہی ساتھ ہوگا۔اگر کوئی کہے کہ اس سے مراد احمدی اور غیر احمدی ہیں اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اس اختلاف میں احمدیوں کے ساتھ ہوگا تو ہم کہتے ہیں کہ اگر اس سے احمدی اور غیر احمدی مراد ہیں تو الہام اس طرح ہونا چاہیے تھا کہ اللہ ایک کا ہے نہ کہ اللہ ایک کا ہوگا کیونکہ حضرت صاحب کا الہام ہے اِنّى مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ وَمَعَ كُلّ مَنْ اَحَبَّكَ ( ترجمہ ) میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں اور ان تمام کے ساتھ جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں یا رکھیں گے۔ولے یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت احمدیوں کے ساتھ ہے۔مگر اس الہام کا لفظ ” ہوگا ثابت کرتا ہے کہ اللہ کسی آئندہ زمانہ میں ایک کا ہوگا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس الہام میں احمدی جماعت کے دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے۔پس اگر موجودہ فتنہ نہ ہوتا تو یہ الہام کس طرح پورا ہوتا ؟ (۴) پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتہ اور آپ کے بڑے پیارے دوستوں میں سے ہیں۔ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے ایک وقت آپ ایسے ہی تھے لیکن کیا آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ الہام یا دنہیں ہے جو کہ شیخ رحمت اللہ صاحب " 66 스