خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 117

خلافة على منهاج النبوة 112 جلد اول میں گنہگار ہوا اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلا ؤں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کرلے۔ا پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اُس کو گلے لگا لیا اور بو سے لئے۔بیٹے نے اس سے کہا کہ اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہ گار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جا مہ جلد نکال کر اسے پہناؤ۔اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔اور پکے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم کھا کر خوشی منائیں کیونکہ میرا یہ بیٹا مر وہ تھا اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔پس وہ خوشی منانے لگے لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ آ کر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی اور ایک نوکر کو بلا کر دریافت کر نے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نے اس سے کہا تیرا بھائی آگیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا۔وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا مگر اس کا باپ باہر جا کے اُسے منانے لگا۔اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی منا تا لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جس نے تیرا مال متاع کسبیوں میں اُڑا دیا تو اس کے لئے تو نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا۔اس نے اس سے کہا بیٹا تو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خوشی منانی اور شادمان ہونا مناسب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا اب زندہ ہوا۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔۱۳ سو میں بہت وسعت حوصلہ رکھتا ہوں۔اگر کوئی پچھتاتا ہوا آئے تو میں اس کی آمد پر بہ نسبت ان کے بہت خوش ہوں گا جنہوں نے پہلے دن بیعت کر لی تھی کیونکہ وہ گمراہ نہیں ہوئے اور یہ گمراہ ہو گیا تھا۔وہ کھوئے نہیں گئے اور یہ کھویا گیا تھا لیکن مل گیا ہے۔باپ اپنے بیٹوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے مگر اس باپ سے بیٹے کے دیکھنے کی خوشی پوچھو جس کا بیٹا بیمار ہو کر تندرست ہو گیا ہو۔میں نفاق کی صلح ہر گز پسند نہیں کرتا۔ہاں جو صاف دل ہو کر اور اپنی غلطی کو چھوڑ کر صلح کے لئے آگے بڑھے میں اس سے زیادہ اس کی طرف بڑھوں گا۔