خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 116

خلافة على منهاج النبوة 117 جلد اول یہی باتیں نہیں ہیں جنہوں نے مجھے اپنی بات پر قائم رکھا بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں اور میں نے اپنے قیاس پر ہی اس بات کو نہیں چلا یا بلکہ یقینی امور پر سمجھا ہے اور وہ ایسی باتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے میں اس سے ہٹ نہیں سکتا۔اور وہ زمین کی گواہی نہیں ہے بلکہ آسمان کی گواہی ہے۔وہ آدمیوں کی گواہی نہیں بلکہ خدا کی گواہی ہے۔پس میں اس بات کو کس طرح چھوڑ سکتا ہوں۔ساری دنیا بھی اگر مجھے کہے کہ یہ بات غلط ہے تو میں کہوں گا کہ تم جھوٹے ہو اور جو کچھ خدا تعالیٰ کہتا ہے وہی سچ ہے کیونکہ خدا ہی سب بچوں سے سچا ہے۔صلح کیونکر ہو؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپس میں صلح ہو جانی چاہیے۔کیا ان لوگوں کا جو یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہیے وہ اس کو چھوڑ دیں گے؟ یا ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ ہونا چاہیے ہم اسے چھوڑ دیں گے ؟ اگر نہیں چھوڑیں گے تو دو نہایت متضاد خیالات کے لوگوں کا اکٹھا کام کرنا اور ہر ایک کا یہ خیال کرنا کہ دوسرے فریق کے خیالات سلسلہ کے لئے سخت نقصان دہ ہیں اور زیادہ اختلاف کا باعث ہوگا یا امن کا ؟ میں تو صلح کے لئے تیار ہوں اور میں اس باپ کا بیٹا ہوں جس کو صلح کا شہزادہ کہا گیا ہے لیکن وہ صلح جو دین کی تباہی کا باعث ہوتی ہو وہ میں کبھی قبول نہیں کر سکتا۔مگر وہ صلح جس میں راستی کو نہ چھوڑنا پڑے اس کے کرنے کے لئے مجھ سے زیادہ اور کوئی تیار نہیں ہے مجھے حضرت مسیح کی وہ تمثیل بہت ہی پسند ہے جو کہ لوقا باب ۱۵ میں لکھی ہے کہ کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اے باپ! مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے۔اس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دُور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بد چلنی میں اُڑا دیا اور جب سب خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔پھر اس ملک کے ایک باشندہ کے ہاں جا پڑا۔اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سور چرانے بھیجا اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سو ر کھاتے تھے انہیں سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔پھر اس نے ہوش میں آ کر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔میں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا کہ اے باپ ! میں آسمان کا اور تیری نظر