خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 108
خلافة على منهاج النبوة جلد اول اس طرح جماعت میں اتحاد اور اتفاق قائم رہ سکے گا۔حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کے دن پچھلے پہر وہ شخص مجھے ملا اور میرے ساتھ سیر کو چل پڑا اور اُس نے مجھے کہا کہ ابھی خلیفہ کی بحث نہ کی جائے جب باہر سے سب لوگ آجائیں گے تو اس مسئلہ کو طے کر لیا جائے گا۔میں نے کہا دو دن تک لوگ آجائیں گے اس وقت اس بات کا فیصلہ ہو جائے۔اس نے کہا نہیں سات آٹھ ماہ تک یونہی کام چلے پھر دیکھا جائے گا اتنی جلدی کی ضرورت ہی کیا ہے۔میں نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں میری رائے پوچھتے ہو تو میں تو یہی کہوں گا کہ خلافت کا مسئلہ نہایت ضروری ہے اور جس قدر بھی جلدی ممکن ہو سکے اس کا تصفیہ ہو جانا چاہیے۔میں نے کہا کہ کیا آپ کوئی ایسا خاص کام بتا سکتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں اگر آپ خلیفہ نہ ہوتے تو وہ رُک جاتا اور جس کی وجہ سے فوراً ان کو خلیفہ بنانے کی حاجت پڑی۔اگر اُس وقت کوئی ایسا خاص کام نہ ہوتے ہوئے پھر بھی ان کی ضرورت تھی تو اب بھی ہر وقت ایک خلیفہ کی ضرورت ہے۔خلیفہ کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جماعت میں جب کوئی نقص پیدا ہو جائے تو وہ اُسے دور کر دے نہ کہ وہ مشین ہوتی ہے جو ہر وقت کام ہی کرتی رہتی ہے۔آپ کو کیا معلوم ہے کہ آج ہی جماعت میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو پھر کون اس کا فیصلہ کرے گا۔میں نے کہا کہ ہماری طرف سے خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا نہیں پیدا ہو سکتا آپ کوئی آدمی پیش کریں میں اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔کچھ اور لوگوں کو بھی مجھ سے محبت ہے وہ بھی اس کی بیعت کرلیں گے اور کچھ لوگ آپ سے تعلق رکھنے والے ہیں وہ بھی بیعت کر لیں گے اس طرح یہ معاملہ طے ہو جائے گا۔پھر میں نے کہا یہ بحث نہیں ہونی چاہئے کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو بلکہ اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ کون خلیفہ ہو۔اُس وقت پھر میں نے یہ کہا کہ آپ اپنے میں سے کوئی آدمی پیش کریں میں اُس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر میں یہ کبھی بھی نہیں مان سکتا کہ کوئی خلیفہ نہ ہو۔اگر تمام لوگ اس خیال کو چھوڑ دیں اور اس خیال کے صرف چند آدمی رہ جائیں تب بھی ہم کسی نہ کسی کی بیعت کر لیں گے اور ایک کو خلیفہ بنائیں گے مگر ہم یہ کبھی نہ مانیں گے کہ خلیفہ نہ ہو۔دوسرا آدمی خواہ کوئی ہو، غیر احمد یوں کو کافر کہے یا نہ کہے ، ان کے پیچھے نماز جائز سمجھے یا نہ سمجھے ان سے تعلقات رکھے یا نہ رکھے ایک خلیفہ