خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 109
خلافة على منهاج النبوة 1+9 جلد اول چاہئے تا کہ جماعت کا اتحاد قائم رہے اور ہم اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔یہ گفتگو بیچ میں ہی رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہوا اور تجویز ہوئی کہ اس پر مزید غور کے بعد پھر گفتگو ہو اور دوسرے دوست بھی شامل کئے جائیں۔دوسرے دن پانچ سات آدمی مشورہ کے لئے آئے اور اس بات پر بڑی بحث ہوئی کہ خلافت جائز ہے یا نہیں۔بڑی بحث مباحثہ کے بعد جب وقت تنگ ہو گیا تو میں نے کہا اب صرف ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ خلیفہ کی ضرورت سمجھتے ہیں وہ اپنا ایک خلیفہ بنا کر اس کی بیعت کر لیں۔ہم ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشورہ پوچھتے ہیں۔آپ لوگ جو کہ خلیفہ ہونا نا جائز سمجھتے ہیں وہاں تشریف نہ لائیں تا کہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔اس کے بعد ہم یہاں (مسجد نور میں ) آ گئے۔وہ لوگ بھی یہیں آ پہنچے۔پھر جو خدا کو منظور تھا وہ ہوا۔اُس وقت جو لوگ میرے پاس بیٹھے تھے وہ خوب جانتے ہیں کہ اُس وقت میری کیا حالت تھی۔اگر میں نے پہلے سے کوئی منصوبہ سازی کی ہوتی تو چاہیے تھا کہ پہلے سے ہی میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے ہوتے لیکن اُس وقت ایک شخص مجھے بتلاتا گیا اور میں وہ الفاظ کہتا گیا۔کیا یہی منصو بہ باز کا حال ہوتا ہے؟ پھر کہتے ہیں کہ اُس وقت ایک شخص تقریر تیسرا اعتراض اور اُس کا جواب کرنے کے لئے کھڑا ہو تو اس کو کہا گیا کہ بیٹھ جاؤ۔اس سے اس کی ہتک ہوئی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اُس وقت اس کو اگر مار بھی پیٹتی تو کوئی حرج نہ تھا کیونکہ یہی تو خلیفہ کی ضرورت تھی جس کا وہ انکار کرتا تھا۔اس نے دیکھ لیا کہ نورالدین خلیفہ المسیح نے ہی اس کی عزت سنبھالی ہوئی تھی اس کی آنکھ بند ہوتے ہی وہ ذلیل ہو گیا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیفہ کی فوراً ضرورت ہوتی ہے نہ کہ سات آٹھ ماہ کے بعد جا کر اس کی حاجت پیش آتی ہے مگر مجھے اس معاملہ کے متعلق کچھ علم نہیں تھا کہ کون بولنے کے لئے کھڑا ہوا ہے اور کس نے منع کیا ہے۔اس مسجد سے باہر جا کر مجھے ایک شخص نے سنایا کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ واقعی قادیان ہسپتال ہے اور اس میں رہنے والے سارے مریض