خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 107
خلافة على منهاج النبوة ۱۰۷ جلد اول وو خلفاء ہوئے۔لیکن جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تبلیغ کا حکم فرمایا ہے وہاں یہ لکھا ہے۔اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جونفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُن تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا اُن سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ اپنی جماعت کے متعلق فرمایا ہے ویسا ہی حضرت مسیح نے بھی لکھا ہے۔البتہ مسیح ناصری نے پطرس کا نام لے کر اس کے سپر د ا پنی بھیڑوں ( مریدوں) کو کیا تھا لیکن چونکہ مسیح محمدی کا ایمان اس سے زیادہ تھا اس لئے اس نے کسی کا نام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ کے سپر د اس معاملہ کو کر دیا کہ وہ جس کو چاہے گا کھڑا کر دے گا۔ادھر ایک جماعت کو حکم دے دیا کہ یہ ” میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں۔ہم کہتے ہیں کہ یہ سب احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا کریں۔تو جس طرح حضرت عیسی نے اپنی جماعت کو پطرس کے حوالہ کیا اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ایک آدمی کے ماتحت رہنے کا حکم دیا اور جس طرح حضرت عیسی" نے اپنے حواریوں کو تبلیغ کا حکم دیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لوگوں کو اپنے نام پر بیعت لینے کا حکم دیا۔اس کے بعد میں کچھ واقعات بیان کرتا ہوں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ غور سے سنیں اور جو نہیں بیٹھے ہوئے انہیں پہنچا دیں۔جب حضرت خلیفتہ المسح الا ول سخت بیمار ہو گئے تو میں نے اپنے اختلاف پر غور کیا اور بہت غور کیا۔جب میں نے یہ دیکھا کہ جماعت کا ایک حصہ عقائد میں ہم سے خلاف ہے تو میں نے کہا کہ یہ لوگ ہماری بات تو نہیں مانیں گے آؤ ہم ہی ان کی مان لیتے ہیں۔میں نے بہت غور کر کے ایک شخص کی نسبت خیال کیا کہ اگر کوئی جھگڑا پیدا ہوا تو پہلے میں اس کی بیعت کرلوں گا پھر میرے ساتھ جو ہوں گے وہ بھی کر لیں گے اور